قرآنِ مجید کا درس دینے سے متعلق اہم تنبیہ قرآن کی آیت سے خود عقیدہ بنانا گمراہی ہیں اس لئے بینا تفسیر پڑھنے والے گمراہ ہوتے ہیں مفسرین قرآن کی تفسیر اس طرح کرتے ہیں کسی بھی آیت کے خلاف نہ ہو عام انسان قرآن کی ہر آیت کی حکمت اس کا نزول کا مقصد یاد نہیں رکھ سکتا

قرآنِ مجید کا درس دینے سے متعلق اہم تنبیہ قرآن کی آیت سے خود عقیدہ بنانا گمراہی ہیں اس لئے بینا تفسیر پڑھنے والے گمراہ ہوتے ہیں مفسرین قرآن کی تفسیر اس طرح کرتے ہیں کسی بھی آیت کے خلاف نہ ہو عام انسان قرآن کی ہر آیت کی حکمت اس کا نزول کا مقصد یاد نہیں رکھ سکتا :-*
یاد رہے کہ جو شخص عالِم نہیں  اس کا درسِ قرآن دینا جائز نہیں ہاں  اگر وہ کسی سُنّی ، صحیح العقیدہ ماہر عالِم کی لکھی ہوئی تفسیر سے صرف وہی الفاظ پڑھ کر سناتا ہے جو انہوں  نے لکھے ہیں  اور اس کی اپنی طرف سے کوئی وضاحت یا تشریح نہیں  کرتا تو یہ جائز ہے، یونہی علماء میں  سے بھی انہیں  ہی درسِ قرآن دینا چاہئے جنہوں  نے معتبر علماءِ کرام کی تفاسیر، اَحادیث اور ان کی شروحات، فقہی اَحکام اور دیگر ضروری علوم کا مُعْتَدْبِہا   (اچھا خاصا)   مطالعہ کیا ہو۔ درسِ قرآن دینے والا ہر شخص ان  3   اَحادیث کو ضرور اپنے پیش ِنظر رکھے : 
(1)  حضرت  عبد اللہ  بن عباس  رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا   سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا’’ جو قرآن میں  علم کے بغیر کچھ کہے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں    بنالے۔  *(ترمذی، کتاب تفسیر القرآن عن رسول  اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم  ، باب ما جاء فی الذی یفسّر القرآن برأیہ ، ۴ / ۴۳۹  ، الحدیث: ۲۹۵۹)* 
(2) حضرت  عبد اللہ بن عباس رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا   سے روایت ہے، حضور پُر نور   صَلَّی اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد   فرمایا’’جو قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہے وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے بنائے۔  *( ترمذی، کتاب تفسیر القرآن عن رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  ، باب ما جاء فی الذی یفسّر القرآن برأیہ ، ۴ / ۴۳۹  ، الحدیث: ۲۹۶۰ )* 
(3) حضرت جندب رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ   سے روایت ہے ،رسول اکرم  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا’’ جو قرآن میں  اپنی رائے سے کہے پھر ٹھیک بھی کہہ دے تب بھی وہ خطا کر گیا۔  *(ترمذی، کتاب تفسیر القرآن عن رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم   ، باب ما جاء فی الذی یفسّر القرآن برأیہ ، ۴ / ۴۴۰ ، الحدیث: ۲۹۶۱)* 
یہاں  قرآنِ مجید کا درس دینے کی فضیلت اور علمِ دین کا درس دینے کے دو فضائل ملاحظہ ہوں : -
(1) حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ   سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی  اللہ    تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’جو لوگ  اللہ تعالیٰ کے گھروں  میں سے کسی گھر میں  جمع ہوتے ہیں  اور وہ قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے اور ایک دوسرے کو اس کادرس دیتے ہیں  تواُن پر سکون نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں  ڈھانپ لیتی ہے اور اللہ   تعالیٰ ان کا ذکر فرشتوں میں  فرماتا ہے۔  *(مسلم، کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن وعلی الذکر، ص  ۱۴۴۷  ، الحدیث:   ۳۸(۲۶۹۹))* 
(2)  حضور پُر نور  صَلَّی  اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’ وہ عالِم جو صرف فرض نماز پڑھ کر بیٹھ جاتا پھر لوگوں کو علمِ دین سکھاتا ہے اس کی بزرگی اس عابد پر جو دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا ہے، ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنیٰ پر۔  *(  دارمی، باب من قال: العلم الخشیۃ وتقوی اللّٰہ  ، ۱ / ۱۰۰  ، الحدیث:  ۲۸۹ )* 
(3) حضرت عبد اللہ بن عباس  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُمَا  فرماتے ہیں  ’’ رات میں  ایک گھڑی علم کا پڑھنا پڑھانا پوری رات(عبادت کرتے ہوئے)   بیدار رہنے سے افضل ہے۔  *( دارمی، باب العمل بالعلم وحسن النیّۃ فیہ ، ۱ / ۹۴  ، الحدیث:   ۲۶۴ )*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے