تمام نبی بشر ہوتے ہیں کہنے اور ماننے میں فرق ہوتا اپنے جیسا بشر کہنا برابری کے لئے ہوتا ہیں اگر اس فرق کو نہیں سمجھتے ہو تو گنہگار باپ کو بھی گنہگار کہا کرو

تمام نبی بشر ہوتے ہیں  کہنے اور ماننے میں فرق ہوتا اپنے جیسا بشر کہنا برابری کے لئے ہوتا ہیں اگر اس فرق کو نہیں سمجھتے ہو تو گنہگار باپ کو بھی گنہگار کہا کرو :-*
  ترجمۂ کنز العرفان     
ان کے دل کھیل میں پڑے ہوئے ہیں اور ظالموں نے آپس میں خفیہ مشورہ کیا کہ یہ (نبی) تمہارے جیسے ایک آدمی ہی تو ہیں تو کیا تم خود دیکھنے کے باوجود جادو کے پاس جاتے ہو؟ *(سورۃ انبیاء آیت نمبر 3)*
 تفسیر صراط الجنان       
{   لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ   :ان کے دل کھیل میں  پڑے ہوئے ہیں  ۔} دل کھیل میں  پڑے ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل ہیں  اور بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ جو دل دنیا کے احوال میں  مشغول اور آخرت کے احوال سے غافل ہو وہ کھیل میں  پڑ اہوا ہے۔ *(خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ  : ۳ ، ۳ / ۲۷۱ ، روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ : ۳ ، ۵ / ۴۵۲ ، ملتقطاً )* 
{    وَ اَسَرُّوا النَّجْوَى ﳓ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا   :  اور ظالموں  نے آپس میں  خفیہ مشورہ کیا ۔}  ارشاد فرمایا کہ کافروں  نے آپس میں  خفیہ مشورہ کیا اور اسے چھپانے میں  بہت مبالغہ کیا مگر  اللہ  تعالیٰ نے ان کا راز فاش کر دیا اور بیان فرما دیا کہ وہ رسولِ کریم صَلَّی  اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے بارے میں  یوں  کہتے ہیں  کہ یہ تمہارے جیسے ایک آدمی ہی تو ہیں ۔ *(خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ : ۳، ۳ / ۲۷۱)* 
 یہ کفر کا ایک اصول تھا کہ جب یہ بات لوگوں  کے ذہن نشین کر دی جائے گی کہ وہ تم جیسے بشر ہیں  تو پھر کوئی ان پر ایمان نہ لائے گا۔ کفار یہ بات کہتے وقت جانتے تھے کہ ان کی بات کسی کے دل میں  جمے گی نہیں  کیونکہ لوگ رات دن معجزات دیکھتے ہیں ، وہ کس طرح باور کر سکیں  گے کہ حضورپُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہماری طرح بشر ہیں  اس لئے انہوں  نے معجزات کو جادو بتا دیا اور کہا کہ کیا تم خود دیکھنے اور جاننے کے باوجود جادو کے پاس جاتے ہو؟

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-