خارجیوں کا مختصر تعارف جن کو شرک کی بیماری تھی جو کبیرہ کو بھی شرک کہتے جیسے سجدہ تعظیم جو حدیث میں حرام ہیں اس کو شرک کہنا اس حدیث سے ثابت ہوا ہر نمازی کلمہ پڑھنے والا مسلمان نہیں ہوتا
خارجیوں کا مختصر تعارف جن کو شرک کی بیماری تھی جو کبیرہ کو بھی شرک کہتے جیسے سجدہ تعظیم جو حدیث میں حرام ہیں اس کو شرک کہنا اس حدیث سے ثابت ہوا ہر نمازی کلمہ پڑھنے والا مسلمان نہیں ہوتا :-*
صحیح بخاری میں تو خارجیو ں سے متعلق صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے ارشاد فرمایا ’’ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر جانو گے ،یہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ *( بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوّۃ فی الاسلام، ۲ / ۵۰۳، الحدیث: ۳۶۱۰ )*
خارجیوں میں سب سے پہلا اور ان میں سب سے بدتر شخص ذُوالْخُوَیصِرَہ تمیمی تھا۔ اس نے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تقسیم پر اعتراض کر کے آپ کی شان میں گستاخی کی تھی ۔ اس کے اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے انہیں خارجی یعنی دین سے نکل جانے والا کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ ظاہری طور پر بڑے عبادت گزار، شب بیدار تھے اور ان کی عبادت و ریاضت اور تلاوت ِقرآن میں مشغولیت دیکھ کر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ بھی حیران ہوتے تھے لیکن ان کے عقائد و نظریات انتہائی باطل تھے ۔ان کا ایک بہت بڑا عقیدہ یہ تھا کہ جو کبیرہ گناہ کرے وہ مشرک ہے اور جو ان کے اس عقیدے کامخالف ہو وہ بھی مشرک ہے ۔ ان ظالموں نے حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو بھی مَعَاذَ اللہ مشرک قرار دے دیا تھا اور نہروان کے مقام پر آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے جنگ کی تھی۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ ان کی تمام تر ظاہری عبادت و ریاضت، تقویٰ و طہارت اور رات رات بھر تلاوت ِقرآن کرنے کو خاطر میں نہ لائے اور ان کے باطل عقائد کی وجہ سے ان کے ساتھ جنگ کی اور انہیں قتل کیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی لمبی لمبی اور ظاہری خشوع وخضوع سے بھر پور نمازیں ، رقت انگیز اور درد بھری آواز میں قرآنِ مجید کی تلاوتیں ، اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کے عذابات سے ڈرانے والے وعظ اور نصیحتیں اور دیگر ظاہری نیک اعمال اس وقت تک قابلِ قبول نہیں جب تک اس کے عقائد درست نہ ہوں ، لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ بد عقیدہ اور بد مذہب شخص کی کثرتِ عبادت، تقویٰ و طہارت اور دیگر نیک نظر آنے والی چیزوں سے ہر گزمتأثِّر نہ ہو اور نہ ہی ان چیزوں کو دیکھ کر ان کی طرف مائل ہو بلکہ ان سے ہمیشہ دورہی رہے کہ اسی میں اس کی دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔
صحیح بخاری میں تو خارجیو ں سے متعلق صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے ارشاد فرمایا ’’ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر جانو گے ،یہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ *( بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوّۃ فی الاسلام، ۲ / ۵۰۳، الحدیث: ۳۶۱۰ )*
خارجیوں میں سب سے پہلا اور ان میں سب سے بدتر شخص ذُوالْخُوَیصِرَہ تمیمی تھا۔ اس نے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تقسیم پر اعتراض کر کے آپ کی شان میں گستاخی کی تھی ۔ اس کے اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے انہیں خارجی یعنی دین سے نکل جانے والا کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ ظاہری طور پر بڑے عبادت گزار، شب بیدار تھے اور ان کی عبادت و ریاضت اور تلاوت ِقرآن میں مشغولیت دیکھ کر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ بھی حیران ہوتے تھے لیکن ان کے عقائد و نظریات انتہائی باطل تھے ۔ان کا ایک بہت بڑا عقیدہ یہ تھا کہ جو کبیرہ گناہ کرے وہ مشرک ہے اور جو ان کے اس عقیدے کامخالف ہو وہ بھی مشرک ہے ۔ ان ظالموں نے حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو بھی مَعَاذَ اللہ مشرک قرار دے دیا تھا اور نہروان کے مقام پر آپ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے جنگ کی تھی۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ ان کی تمام تر ظاہری عبادت و ریاضت، تقویٰ و طہارت اور رات رات بھر تلاوت ِقرآن کرنے کو خاطر میں نہ لائے اور ان کے باطل عقائد کی وجہ سے ان کے ساتھ جنگ کی اور انہیں قتل کیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی لمبی لمبی اور ظاہری خشوع وخضوع سے بھر پور نمازیں ، رقت انگیز اور درد بھری آواز میں قرآنِ مجید کی تلاوتیں ، اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کے عذابات سے ڈرانے والے وعظ اور نصیحتیں اور دیگر ظاہری نیک اعمال اس وقت تک قابلِ قبول نہیں جب تک اس کے عقائد درست نہ ہوں ، لہٰذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ بد عقیدہ اور بد مذہب شخص کی کثرتِ عبادت، تقویٰ و طہارت اور دیگر نیک نظر آنے والی چیزوں سے ہر گزمتأثِّر نہ ہو اور نہ ہی ان چیزوں کو دیکھ کر ان کی طرف مائل ہو بلکہ ان سے ہمیشہ دورہی رہے کہ اسی میں اس کی دنیا وآخرت کی بھلائی ہے۔
Comments
Post a Comment