فرشتوں کی تسبیح کی کیفیت حضور ﷺ نے ہمیں علم غیب سے بتایا جنّت میں مومن کی تسبیح بھی ایسے ہوگی دنیا میں کم سے کم اتنا تو ہو چلتے پھر تے تسبیح پڑھی جائے

فرشتوں  کی تسبیح کی کیفیت حضور ﷺ نے ہمیں علم غیب سے بتایا جنّت میں مومن کی تسبیح بھی ایسے ہوگی دنیا میں کم سے کم اتنا تو ہو چلتے پھر تے تسبیح پڑھی جائے :-*
  ترجمۂ کنز العرفان     
 *رات اور دن اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ،وہ سستی نہیں کرتے۔*
 تفسیر صراط الجنان       
{   یُسَبِّحُوْنَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ   :   رات اوردن اس کی پاکی بیان کرتے ہیں ۔}   یعنی فرشتے ہر وقت اللہ  تعالیٰ کی تسبیح اور پاکی بیان کرتے رہتے ہیں  اور اس میں     وہ کسی طرح کی سستی نہیں  کرتے۔   *( خازن، الانبیاء، تحت الآیۃ   : ۲۰، ۳ / ۲۷۳)* 
 علامہ اسماعیل حقی  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ’’فرشتوں  کے لئے تسبیح ایسے ہے جیسے ہمارے لئے سانس لینا تو جس طرح ہمارا کھڑ ا ہونا ، بیٹھنا،کلام کرنا اور دیگر کاموں  میں  مصروف ہونا ہمیں  سانس لینے سے مانع نہیں  ہوتا اسی طرح فرشتوں کے کام انہیں  تسبیح سے مانع نہیں  ہوتے۔ *( روح البیان، الانبیاء، تحت الآیۃ : ۲۰، ۵ / ۴۶۲ )* 
اور دلیل کے طور پر آپ رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی  عَلَیْہِ   نے یہ روایت ذکر فرمائی کہ حضرت    عبد اللہ  بن حارث  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں :میں   نے حضرت کعب  رَضِیَ  اللہ  تَعَالٰی  عَنْہُ سے اس آیت کے بارے میں     پوچھا کہ کیا فرشتے پیغام رسانی میں  مصروف نہیں  ہوتے؟ کیا وہ دیگر کاموں     میں  مشغول نہیں  ہوتے؟  (اور جب وہ ان چیزوں  میں  مصروف ہوتے ہیں  تو پھر ہر وقت وہ تسبیح کس طرح کرتے ہیں )  حضرت کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  نے فرمایا ’’ فرشتوں  کے لیے تسبیح کو ایسے بنایا گیا  ہے جیسے تمہارے لیے سانس بنائی گئی ہے ۔کیا آپ کھاتے ،پیتے ،آتے جاتے اور بولتے وقت سانس نہیں  لے رہے ہوتے ؟ بالکل یہی کیفیت ان کی تسبیح کی ہے۔ *( شعب الایمان، الثالث من شعب الایمان۔ الخ، فصل فی معرفۃ الملائکۃ ، ۱ / ۱۷۸،  روایت نمبر   :  ۱۶۱ )* 
 *قرب و شرف رکھنے والوں  کا وصف:* 
 علامہ احمد صاوی  رَحْمَۃُ اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ  اس آیت کے تحت فرماتے ہیں ’’فرشتوں کے بارے میں  یہ خبر دینے سے مقصود مسلمانوں  کو   اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کرنے پر ابھارنا اور کافروں کو   اللہ تعالیٰ کی اطاعت وعبادت ترک کرنے پر شرم دلانا ہے کیونکہ عبادت اور تسبیح کرنا قرب اور شرف رکھنے والے لوگوں  کا وصف ہے اور اسے چھوڑ دینا    ( اللہ  تعالیٰ کی رحمت سے )   دور ہونے والے اور ذلیل لوگوں  کا شیوہ ہے۔   *( تفسیر صاوی، الانبیاء، تحت الآیۃ : ۲۰، ۴ / ۱۲۹۴)* 
 لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ  اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے مقرب بندوں  کے طریقے پر چلتے ہوئے  اللہ تعالیٰ کی    عبادت اور اس کی اطاعت کرنے میں  مصروف رہے اور اس سلسلے میں کسی طرح کی شرم وعار محسوس نہ کرے ۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے