حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غیب کی خبریں دینے والے رسول ہیں
حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غیب کی خبریں دینے والے رسول ہیں :-*
ترجمۂ کنز العرفان
اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور غیب کی خبریں دینے والارسول تھا۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 54)*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ : اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو۔} حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرزند ہیں اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد سے ہیں ۔ اس آیت میں حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دو وصف بیان کئے گئے۔
(1) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے تھے ۔ یاد رہے کہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے ہی ہوتے ہیں مگر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا خصوصی طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس وصف میں بہت زیادہ ممتاز تھے ،چنانچہ ایک مرتبہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوکوئی شخص کہہ گیا جب تک میں نہیں آتا آپ یہیں ٹھہریں توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کے انتظار میں 3 دن تک وہیں ٹھہرے رہے۔ اسی طرح (جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ذبح کرنے لگے تو) ذبح کے وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صبر کرنے کا وعدہ فرمایا تھا، اس وعدے کو جس شان سے پورا فرمایا اُس کی مثال نہیں ملتی۔ *( خازن، مریم، تحت الآیۃ : ۵۴ ، ۳ / ۲۳۸)*
(2) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غیب کی خبریں دینے والے رسول تھے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو رسول اور نبی فرمایا گیا ہے، اس میں بنی اسرائیل کے ان لوگوں کی تردید کرنا مقصود تھا جویہ سمجھتے تھے کہ نبوت صرف حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لیے ہے اور حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبی نہیں ہیں ۔
*رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وعدہ وفائی*
اوپر بیان ہو اکہ حضرت اسماعیل کسی جگہ پر 3 دن تک ایک شخص کے انتظار میں ٹھہرے رہے،اسی طرح کا ایک واقعہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں بھی اَحادیث کی کتابوں میں موجود ہے، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن ابو الحمساء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : بِعْثَت سے پہلے میں نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کوئی چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میری طرف باقی رہ گئی تھی۔ میں نے وعدہ کیا کہ اسی جگہ لاکر دیتا ہوں ، میں بھول گیا اور تین دن کے بعد یاد آیا، میں گیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اسی جگہ موجود تھے۔ ارشاد فرمایا ’’اے نوجوان! تو نے مجھے تکلیف دی ہے، میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔ *(ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی العدۃ، ۴ / ۴۸۸ ، الحدیث: ۴۹۹۶)*
ترجمۂ کنز العرفان
اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو بیشک وہ وعدے کا سچا تھا اور غیب کی خبریں دینے والارسول تھا۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 54)*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ : اور کتاب میں اسماعیل کو یاد کرو۔} حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرزند ہیں اور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد سے ہیں ۔ اس آیت میں حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دو وصف بیان کئے گئے۔
(1) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے تھے ۔ یاد رہے کہ تمام انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وعدے کے سچے ہی ہوتے ہیں مگر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا خصوصی طور پر ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس وصف میں بہت زیادہ ممتاز تھے ،چنانچہ ایک مرتبہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کوکوئی شخص کہہ گیا جب تک میں نہیں آتا آپ یہیں ٹھہریں توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس کے انتظار میں 3 دن تک وہیں ٹھہرے رہے۔ اسی طرح (جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ذبح کرنے لگے تو) ذبح کے وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صبر کرنے کا وعدہ فرمایا تھا، اس وعدے کو جس شان سے پورا فرمایا اُس کی مثال نہیں ملتی۔ *( خازن، مریم، تحت الآیۃ : ۵۴ ، ۳ / ۲۳۸)*
(2) آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غیب کی خبریں دینے والے رسول تھے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو رسول اور نبی فرمایا گیا ہے، اس میں بنی اسرائیل کے ان لوگوں کی تردید کرنا مقصود تھا جویہ سمجھتے تھے کہ نبوت صرف حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لیے ہے اور حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نبی نہیں ہیں ۔
*رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وعدہ وفائی*
اوپر بیان ہو اکہ حضرت اسماعیل کسی جگہ پر 3 دن تک ایک شخص کے انتظار میں ٹھہرے رہے،اسی طرح کا ایک واقعہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں بھی اَحادیث کی کتابوں میں موجود ہے، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن ابو الحمساء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : بِعْثَت سے پہلے میں نے نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کوئی چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت میری طرف باقی رہ گئی تھی۔ میں نے وعدہ کیا کہ اسی جگہ لاکر دیتا ہوں ، میں بھول گیا اور تین دن کے بعد یاد آیا، میں گیا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اسی جگہ موجود تھے۔ ارشاد فرمایا ’’اے نوجوان! تو نے مجھے تکلیف دی ہے، میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔ *(ابوداؤد، کتاب الادب، باب فی العدۃ، ۴ / ۴۸۸ ، الحدیث: ۴۹۹۶)*
Comments
Post a Comment