انبیاء کرام قیامت کی گبراہٹ سے محفوظ ہوتے ان پر ہر وقت ہر حال میں سلام بھیجنا جائزے ہیں قرآن میں کوئی پابندی نہیں کھڑے ہو کر بیٹھ کر جیسا چاہوں پڑھوں

انبیاء کرام قیامت کی گبراہٹ سے محفوظ ہوتے ان پر ہر وقت ہر حال میں سلام بھیجنا جائزے ہیں قرآن میں کوئی پابندی نہیں  کھڑے ہو کر بیٹھ کر جیسا چاہوں پڑھوں :-*
  ترجمۂ کنز العرفان   
اور مجھ پر سلامتی ہو جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن وفات پاؤں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں ۔ *(سورۃ مریم آیت نمبر 33)*
 تفسیر صراط الجنان     
{  وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ  :اور مجھ پر سلامتی ہو۔}   آخر میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  نے ویساہی کلام کیا جوگزشتہ رکوع میں  حضرت یحیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے حوالے سے گزر چکا ہے کہ میں  جس دن پیدا ہوا اس دن مجھ پر سلامتی ہو، جس دن وفات پاؤں اس دن مجھ پر سلامتی ہو اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں اس دن مجھ پر سلامتی ہو۔ جب حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام   نے یہ کلام فرمایا توتمام لوگ خاموش ہوگئے اور ان کو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی والدہ ماجدہ کے نیک، پرہیزگار ہونے  پر یقین آگیا کہ جوبچہ اس طرح کی باتیں  کر رہا ہے اس کی والدہ ہمارے لگائے ہوئے الزامات سے بَری ہیں ، اس کلام کے بعد آپ خاموش ہوگئے اور دوبارہ اسی وقت کلام کیاجب دوسرے بچوں کی طرح بولنے کی عمرتک پہنچ گئے۔  *(خازن، مریم، تحت الآیۃ : ۳۳ ، ۳ / ۲۳۴ )* 
اس سے معلوم ہوا کہ  اللہ تعالیٰ کے نبی  عَلَیْہِ السَّلَام  ولادت، زندگی، وفات،حشر ہر جگہ  اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے امن میں  رہتے ہیں

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-