حضرت عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور ﷺ کے علم غیب کے اظہار سے ایمان لاے علم غیب اور یا رسول اللہ‎ کے منکر تم بھی ایمان لیے آؤ :-

حضرت عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور ﷺ کے علم غیب کے اظہار سے ایمان لاے علم غیب اور یا رسول اللہ‎ کے منکر تم بھی ایمان لیے آؤ :-
   ترجمۂ کنز العرفان       
اے نبی !جو قیدی تمہارے ہاتھ میں ہیں ان سے فرماؤ،اگر اللہ تمہارے دل میں بھلائی دیکھے گا تو جو مال تم سے لیا گیااس سے بہتر تمہیں عطا فرمائے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
 تفسیر صراط الجنان         
{ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ  :   اے نبی۔} شانِ نزول:  یہ آیت حضرت عباس بن عبد المطلب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو سید عالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چچا ہیں۔یہ کفارِ قریش کے ان دس سرداروں میں سے تھے جنہوں نے     جنگِ بدر میں لشکرِ کفار کے کھانے کی ذمہ داری لی تھی اور یہ اس خرچ کے لئے بیس اوقیہ سونا ساتھ لے کر چلے تھے لیکن ان کے ذمے جس دن کھلانا تجویز ہوا تھا خاص اسی روز جنگ کا واقعہ پیش آیا اور قِتال میں کھانے کھلانے کی فرصت ومہلت نہ ملی تو یہ بیس اوقیہ سونا ان کے پاس بچ رہا، جب وہ گرفتار ہوئے اور یہ سونا ان سے لے لیا گیا تو انہوں نے درخواست کی کہ یہ سونا ان کے فدیہ میں شمار کرلیا جائے مگر رسولِ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے انکار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جو  چیز ہماری مخالفت میں صَرف کرنے کے لئے لائے تھے وہ نہ چھوڑی جائے گی اور حضرت عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ     پر ان کے دونوں بھتیجوں عقیل بن ابی طالب اور نوفل بن حارث کے فدیئے کا بار بھی ڈالا گیا تو حضرت عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے عرض کیا :یا محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) تم مجھے اس حال میں چھوڑو گے کہ میں باقی عمر قریش سے مانگ مانگ کر  بسر کیا کروں تو حضورِاکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا کہ پھر وہ سونا کہاں ہے جس کو تمہارے مکہ مکرمہ سے چلتے     وقت تمہاری بیوی ام الفضل نے دفن کیا تھا اور تم ان سے کہہ کر آئے ہو کہ خبر نہیں ہے مجھے کیا حادثہ پیش آئے، اگر میں جنگ  میں کام آجائوں تو یہ تیرا ہے اور  عبداللہ اور  عبیداللہ کا اور فضل اور قثم کا (سب ان کے بیٹے تھے)  حضرت عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے عرض کیا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا ؟ حضور پُرنور     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا مجھے میرے رب عَزَّوَجَلَّ  نے خبردار کیا ہے ۔اس پر حضرت عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے عرض کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں بے شک آپ سچے ہیں اور  میں گواہی دیتا ہوں کہ  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اس کے بندے  اور رسول ہیں۔ میرے اس راز پر  اللہ  عَزَّوَجَلَّ     کے سوا کوئی مُطَّلع نہ تھا  اور حضرت عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اپنے بھتیجوں عقیل و نوفل کو حکم دیا وہ بھی اسلام لائے۔ (خازن، الانفال، تحت الآیۃ:     ۷۰ ، ۲ / ۲۱۱ )     

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے