شریت میں حضور ﷺ کا اختیار اور امت کی بھلائی پر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حرص کی جھلک

شریت میں حضور ﷺ کا اختیار اور  امت کی بھلائی پر نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حرص کی جھلک:-*   
 اور لوگ تو اپنی اور اپنی اولاد کی بھلائی کے حریص ہوتے ہیں مگر یہ رسولِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اپنی امت کی بھلائی اور ان کی خیر خواہی پر حریص ہیں۔اب اُمت پر ان کی حرص اور شفقت کی جھلک ملاحظہ ہو  حضرت زید بن خالد جُہنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، حضور پُر نور     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’اگر مجھے اپنی امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشاء کی نماز کو تہائی رات تک مؤخر کر دیتا۔ *( ترمذی، ابواب الطہارۃ، باب ما جاء فی السواک، ۱ / ۱۰۰، الحدیث:۲۳)*   
مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خطبہ میں حج فرض ہونے کا بیان فرمایا۔اس پر ایک شخص نے کہا، کیا ہر سال فرض ہے؟ نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے سکوت فرمایا۔ سائل نے سوال کی تکرار کی تو ارشاد فرمایا کہ’’جو میں بیان نہ کروں اس کے درپے نہ ہو، اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا اور تم نہ کرسکتے۔ *(مسلم، کتاب الحج، باب فرض الحجّ مرّۃ فی العمر، ص ۶۹۸ ، الحدیث: ۴۱۲(۱۳۳۷))*   
صحیح مسلم میں ہی حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے حضور پُرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ اللہ  تعالیٰ نے مجھے تین سوال عطا فرمائے، میں نے دو بار ( تو دنیامیں ) عرض کرلی ’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِاُمَّتِیْ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِاُمَّتِیْ     ‘‘اے اللہ !میری اُمت کی مغفرت فرما، اے  اللہ ! میری اُمت کی مغفرت فرما۔ ’’ وَاَخَّرْتُ الثَّالِثَۃَ لِیَوْمٍ یَرْغَبُ اِلَیَّ الْخَلْقُ کُلُّہُمْ حَتّٰی اِبْرَاہِیمُ     ‘‘ اور تیسری عرض اس دن کے لیے اٹھا رکھی جس میں مخلوقِ الہٰی میری طرف نیاز مند ہوگی یہاں تک کہ ( اللہ تعالیٰ کے خلیل)      حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی میرے نیاز مند ہوں گے۔ *(مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب بیان انّ القرآن علی سبعۃ احرف وبیان معناہ، ص ۴۰۹، الحدیث: ۲۷۳ (۸۲۰)*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے