علماء اور اَولیاء کی تقلید اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے غیر مقلید بد مذہب والوں کی تقلید شیطان کی اطاعت ہے

علماء اور اَولیاء کی تقلید اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے غیر مقلید بد مذہب والوں کی تقلید شیطان کی اطاعت ہے :-*
  یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے پادریوں اور علماء کو معبود بنا کر ان کی کوئی باقاعدہ عبادت نہیں کی تھی بلکہ خدا کے  حکم کو چھوڑ کر ان کے حکم کو اپنے لئے شریعت بنالیا تھا اور اسی کو اللہ  تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے خدا بنالئے چنانچہ پادریوں اور درویشوں سے متعلق ان کی اِس روِش کے بارے میں حضرت عدی بن حاتم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں : میں حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت میرے گلے میں سونے کی صلیب تھی۔ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’عدی! اس بت کو دور کر دو۔ نیز صحابی فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سورۂ براءت سے پڑھ رہے تھے’’  اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ (یعنی عیسائیوں ، یہودیوں نے اپنے درویشوں اور علماء کو اللہ کے سوا رب بنا لیا) پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے (اس کی وضاحت  کرتے ہوئے ارشاد) فرمایا کہ ’’ وہ ان کو پوجتے نہیں تھے بلکہ جب وہ ان کے لئے کسی چیز کو حلال قرار دیتے تو یہ حلال سمجھتے اور جب وہ حرام قرار دیتے تو یہ حرام سمجھتے تھے۔ *(ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ التوبۃ،۵ /۶۵ ، الحدیث: ۳۱۰۶)*           
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ  و رسول کے مقابلے میں جس کی دینی اطاعت کی جائے گی گویا اسے رب بنا لیا گیا جیسا کہ عیسائی اور یہودی خدا کے مقابلے میں اپنے پادریوں اور درویشوں کی بات مانتے تھے اس لئے ان کے بارے میں کہا  گیا کہ انہوں نے اپنے پادریوں اور درویشوں کو اللہ کے سوارب بنالیا جبکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ       کے فرمان کے ماتحت علماء، اولیاء اور صالحین کی اطاعت عین اللہ عَزَّوَجَلَّ       اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی اطاعت ہے۔ رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:  یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ           *(النساء: ۵۹)*     
 *ترجمہکنزُالعِرفان*   : اے ایمان والو!  اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے حکومت والے ہیں۔     
 حضرت عطا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اس ا ٓیت میں رسول کی اطاعت سے مراد قرآن اور سنت کی پیروی  ہے اور ’’ اُولِی الْاَمْرِ  ‘‘ کی اطاعت سے علماء اور فقہاء کی اطاعت مراد ہے۔ *(سنن دارمی، باب الاقتداء بالعلماء،  ۱/۸۳ ، الحدیث:۲۱۹)*     
 ایک جگہ ارشاد فرمایا  فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ  *(النحل: ۴۳)*     
 *ترجمہکنزُالعِرفان*   : اے لوگو! اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو ۔     
 ایک مقام پر ارشاد فرمایا  وَ اتَّبِـعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ  *(لقمان: ۱۵)*     
 *ترجمہکنزُالعِرفان*  :اور میری طرف رجوع کرنے والے آدمی  کے راستے پر چل۔     
اور ارشاد فرمایا: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ   *(التوبہ: ۱۰۰)*     
 *ترجمہکنزُالعِرفان*  :  اور بیشک مہاجرین اور انصار میں سے سابقینِ اَوّلین اور دوسرے وہ جو بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ہیں ان سب سے اللہ       راضی ہوا اور یہ اللہ  سے راضی ہیں۔     
 اس آیت کی تفسیر میں  ایک قول یہ ہے کہ پیرو ی کرنے والوں سے قیامت تک کے وہ ایماندار مراد ہیں جو ایمان، طاعت اور نیکی میں انصار و مہاجرین  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کے راستے پر چلیں۔ ان سب سے  اللہ عَزَّوَجَلَّ راضی ہوا ۔ *(خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۰ ، ۲ / ۲۷۵ ، مدارک، التوبۃ، تحت الآیۃ:  ۱۰۰ ، ص ۴۵۲  ، ملتقطاً)*     
 بکثرت احادیث میں بھی علماء کی اطاعت کی ترغیب دی گئی ہے، ان میں سے       3  اَحادیث درج ذیل ہیں :     
(1) صحیح مسلم  میں حضرت تمیم داری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے،  رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد  فرمایا ’’دین خیر خواہی (کا نام)  ہے۔ صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  نے عرض کی:  یا رسولَ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ،کس کی خیر خواہی کریں ؟ ارشاد فرمایا ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی، اس کی کتاب کی، اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی، مسلمانوں کے امام کی اور عام مومنین کی۔            *(مسلم، کتاب الایمان، باب بیان انّ الدین النصیحۃ، ص ۴۷ ، الحدیث: ۹۵(۵۵))*     
اس حدیث کی شرح میں ہے کہ یہ حدیث ان اماموں کو بھی شامل ہے جو علمائے دین ہیں ، ان کی روایت کی ہوئی احادیث کو قبول کرنا، احکام میں ان کی تقلید کرنا اور ان کے ساتھ نیک گمان رکھنا ان کی خیرخواہی سے ہے۔ *(شرح نووی علی المسلم، کتاب الایمان، باب بیان انّ الدین النصیحۃ، ۱/ ۳۹ ، الجزء الثانی )*     
(2) حضرت جبیر بن مطعم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، نبی اکرم      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’ تین چیزیں ایسی ہیں کہ مومن کا دل ان پر خیانت نہیں کرتا (1 ) اللہ تعالیٰ کے لیے عمل خالص کرنا۔ (2 ) علماء کی اطاعت  کرنا اور ( 3 ) (مسلمانوں کی)       جماعت کو لازم پکڑنا ۔ *(مسند امام احمد، مسند المدنیین، حدیث جبیر بن مطعم  رضی اللہ تعالی عنہ ، ۵ / ۶۱۵ ، الحدیث:       ۱۶۷۳۸)*           
(3) حضرت  عبداللہ بن مسعود  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرورِ عالَم      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’ علم سیکھو اور لوگوں کو سکھائو ، فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھائو ،قرآن سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ۔ میں وفات پانے والا ہوں علم عنقریب اٹھ جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے حتّٰی کہ دو شخص ایک فریضہ میں جھگڑیں گے اور ایسا کوئی شخص نہ پائیں گے جو ان میں فیصلہ کردے۔  *(دارمی، باب الاقتداء بالعلماء، ۱ / ۸۳ ، الحدیث:  ۲۲۱)*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے