امام کے پیچھے قرآن پڑھنے کی ممانعت:-

امام کے پیچھے قرآن پڑھنے کی ممانعت:-*
  ترجمۂ کنز العرفان       
 اور اے حبیب! جب تم ان کے پاس نشانی نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے خود ہی کیوں نہ بنا لی؟ تم فرماؤ: میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف میرے رب کی طرف سے وحی بھیجی جاتی ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھول دینے والے دلائل ہیں اور مسلمانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
*(سورۃ اعراف آیت نمبر 203/204)*
علامہ عبداللہ  بن احمد نسفی  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں ’’ اس آیت سے ثابت ہوا کہ جس وقت قرآنِ کریم  پڑھا جائے خواہ نماز میں یا خارجِ نماز اُس وقت سننا اور خاموش رہنا واجب ہے۔  *(مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ص ۴۰۱)*     
  یاد رہے کہ اس آیتِ مبارکہ کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ، ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں خطبہ کو بغور سننے اور خاموش رہنے کا حکم ہے۔اور ایک قول یہ ہے کہ اس آیت سے نماز و خطبہ دونوں میں بغور سننے اور خاموش رہنے کا وجوب ثابت ہوتا ہے ۔ جبکہ جمہور صحابۂ کرام         رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  اس طرف ہیں کہ یہ آیت مقتدی کے سننے اور خاموش رہنے کے باب میں ہے۔ *(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ۲/ ۱۷۲، مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ص ۴۰۱ ، ملتقطاً )* 
خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت سے امام کے پیچھے قرآنِ پاک پڑھنے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے اور کثیر احادیث میں بھی یہی حکم فرمایا گیا ہے کہ امام کے پیچھے
 قراءت نہ کی جائے۔ چنانچہ 
(1) حضرت بشیر بن جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نماز پڑھائی  تو آپ نے کچھ لوگوں کو سنا کہ وہ نماز میں امام کے ساتھ قراء ت کررہے ہیں۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا ’’ کیا ابھی تمہارے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ تم اس آیت کے معنی سمجھو۔ *(تفسیر ابن جریر، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۰۴، ۶ / ۱۶۱)* 
(2)  حضرت ابو موسیٰ اشعری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے مروی ہے کہ نبی اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا:     ’’جب تم نماز پڑھنے لگو تو اپنی صفوں کو درست کرلو، پھر تم میں سے کوئی ایک امامت کروائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر  کہو۔ ایک روایت میں اتنا زائد ہے کہ اور جب وہ قراء ت کرے تو تم خاموش رہو۔  *(مسلم، کتاب الصلاۃ، باب التشہد فی الصلاۃ، ص ۲۱۴ - ۲۱۵، الحدیث: ۶۲ - ۶۳(۴۰۴))* 
(3) حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں ، نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا : ’’امام  اسی لئے ہوتا ہے کہ اس کی اِقتداء کی جائے پس جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قراء ت کرے تو خاموش رہو۔ *(ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنّۃ فیہا، باب اذا قرأ الامام فانصتوا، ۱/ ۴۶۱، الحدیث: ۸۴۶)* 
(4) حضرت جابر بن  عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں ’’جس نے ایک رکعت بھی بغیر سورۂ فاتحہ کے پڑھی اس  کی نماز نہ ہوئی مگر یہ کہ امام کے پیچھے ہو۔  *(ترمذی، ابواب الصلاۃ، باب ما جاء فی ترک القراء ۃ خلف الامام۔ الخ، ۱/ ۳۳۸، الحدیث: ۳۱۳)* 
 *نوٹ:*  یہاں ایک اور مسئلہ بھی یاد رکھیں کہ بعض لوگ ختم شریف میں مل کر زور سے تلاوت کرتے ہیں یہ بھی ممنوع ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے