اہلے حدیث خبیث نماز کی قرات میں کھڈے ہو کر یا نبی پڑھتے ہیں مگر نماز کے باہر یا رسول اللہ‎ پر اعترض کرتے ہیں ان کا اس آیات اور بہت سے حدیث پر ایمان نہیں ہیں یہ اپنی جہالت میں گمراہ ہیں

اہلے حدیث خبیث نماز کی قرات میں کھڈے ہو کر یا نبی پڑھتے ہیں مگر نماز کے باہر یا رسول اللہ‎ پر اعترض کرتے ہیں ان کا اس آیات اور بہت سے حدیث پر ایمان نہیں ہیں یہ اپنی جہالت میں گمراہ ہیں :-
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠(۶۴)
 ترجمۂ کنز العرفان         
اے نبی! اللہ تمہیں کافی ہے اور جو مسلمان تمہارے پیروکار ہیں ۔(سورۃ الانفال آیت نمبر 64)
 تفسیر صراط الجنان           
{ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ   :  اے نبی! اللہ      تمہیں کافی ہے۔}  اس سے پہلی آیت میں      اللہ  تعالیٰ نے کفار کے دھوکہ دینے کی صورت میں نبی اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   سے اپنی مدد و نصرت کا وعدہ فرمایا تھا اور اس آیت میں  اللہ      تعالیٰ  نے مطلقاً ہر حال میں اپنے حبیب      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی مدد ونصرت اور کامیابی کا وعدہ فرمایا ہے۔ شانِ نزول: ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت غزوۂ بدر میں جنگ سے پہلے نازل ہوئی اور مومنین سے انصار صحابۂ کرام یا انصار و مہاجرین دونوں مراد ہیں۔ حضرت  عبداللہ      بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی ہے کہ یہ آیت حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے اسلام قبول کرنے سے متعلق نازل ہوئی۔ اس قول کے مطابق یہ آیت مکی ہے اور  رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے حکم سے مدنی سورت میں لکھی گئی ہے۔ اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اللہ عَزَّوَجَلَّ  آپ کو کافی ہے اور ان مسلمانوں کو بھی  کافی ہے      جنہوں نے آپ ک پیروی کی۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ اے حبیب!  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اللہ  آپ کو کافی ہے اور آپ کی پیروی کرنے والے مسلمان آپ کو کافی ہیں۔      (تفسیر کبیر، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۴ ،      ۵ / ۵۰۳ ، خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۶۴ ،      ۲ / ۲۰۷ - ۲۰۸ ، ملتقطاً )     

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-