یا رسول اللہ‎ کہنا تو صحابہ کی سنت ہیں یا رسول اللہ‎ کے منکر منافقوں کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا حکم شانِ فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

یا رسول اللہ‎ کہنا تو صحابہ کی سنت ہیں یا رسول اللہ‎ کے منکر منافقوں کی نماز جنازہ نہ پڑھنے کا حکم شانِ فاروق اعظم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  :--*
  اس شانِ نزول سے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی عظمت و شان ظاہر ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کا مقام ایسا بلند ہے کہ اللہ  تعالیٰ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی رائے کے مطابق قرآنِ مجید کی آیات نازل فرماتا ہے ، ترمذی شریف میں حضرت   عبداللہ   بن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے رایت ہے، تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  نے عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی زبان اور دل پر حق جاری فرما دیا ہے۔ حضرت  عبداللہ بن عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  فرماتے ہیں : جب کبھی لوگوں میں کوئی معاملہ در پیش ہوا اور اس کے بارے میں لوگوں نے کچھ کہا اور حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے بھی کچھ کہا تو حضرت عمر فاروق   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی رائے کے مطابق قرآن نازل ہوا۔ *( ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ،   ۵ / ۳۸۳  ، الحدیث:  ۳۷۰۲ )* 
  مذکورہ بالا آیات کے علاوہ   20  سے زائد آیات ایسی ہیں جنہیں  اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   کی رائے کے مطابق نازل فرمایا، ان میں سے پانچ آیات درج ذیل ہیں 
(1) مقامِ ابراہیم کو نما زکی جگہ بنانے کی آیت،  چنانچہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے عرض کی:  یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ، کاش ہم مقامِ ابراہیم کو نما زکی جگہ بنالیں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا  وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى  *( بقرہ:  ۱۲۵)* 
 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : اور   (اے مسلمانو!)   تم ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ۔ 
(2) پردے کی آیت،  چنانچہ ایک مرتبہ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے عرض کی:  یا     رسولَ  اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کاش آپ ازواجِ مُطَہَّرات کو پردے کا حکم فرمائیں کیونکہ ان سے نیک اور بد ہر قسم کے لوگ کلام کرتے ہیں ، تو  اللہ   تعالیٰ   نے یہ آیت نازل فرما ئی:’’   یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا  ‘‘
*(احزاب:  ۵۹ )* 
 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے   منہ پر ڈالے رکھیں یہ اِس سے زیادہ نزدیک ہے کہ وہ پہچانی جائیں   تو انہیں ستایا نہ جائے اور  اللہ   بخشنے والا مہربان ہے۔ 
(3)  نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کی ازواجِ مطہرات باہمی کسی اختلاف کے سبب سرکار ِ دوعالم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے پاس جمع ہوئیں  (جو آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   کے مزاج کے برخلاف تھا)   تو حضرت عمر فاروق   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے ازواجِ مطہرات سے فرمایا کہ یا تو تم اس سے باز آجاؤ ورنہ اگر نبی کریم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تمہیں طلاق   دے دیں تو قریب ہے کہ ان کا رب   عَزَّوَجَلَّ  انہیں تم سے اچھی بیویاں عطا فرما دے ، تو آیت بھی اسی طرح اتری اور  اللہ   تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:   ’’  عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓىٕبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓىٕحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا  ‘‘ *(تحریم:  ۵ )* 
 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : اگر وہ (حبیب) تمہیں طلاق دے دیں   توقریب ہے کہ ان کا رب انہیں تم سے بہتر بیویاں بدل دے جو اطاعت والیاں ، ایمان والیاں ، ادب والیاں ، توبہ کرنے والیاں ،  عبادت گزار،روزہ دار ، بیاہیاں اور کنواریاں ہوں۔ 
( 4 )  ایک موقع پر آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے دِل میں خیال پیدا ہوا کہ کاش غلاموں کو اجازت لے کر مکانوں میں داخل ہونے کا حکم ہوتا۔ اس پر یہ آیۂ کریمہ نازل ہوئی :  یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍؕ-مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ۫ؕ-ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْؕ-لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّؕ-طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ  ‘‘
*(  نور:  ۵۸  )* 
 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : اے ایمان والو! تمہارے غلام اور تم میں سے جو بالغ عمر کو نہیں پہنچے انہیں چاہیے کہ تین اوقات میں فجر کی نماز سے پہلے اور دوپہر کے وقت جب تم اپنے کپڑے اتار رکھتے ہو اور نماز عشاء کے بعد   (گھرمیں داخلے سے پہلے) اجازت لیں۔ یہ تین اوقات تمہاری شرم کے ہیں۔ ان تین اوقات کے بعد تم پر اور ان پر کچھ گناہ نہیں۔ وہ تمہارے ہاں ایک دوسرے کے پاس بار بار آنے والے ہیں۔ اللہ   تمہارے لئے یونہی آیات بیان کرتا ہے اور   اللہ   علم والا، حکمت والا ہے۔ 
(5) منافقوں کے سردار   عبداللہ  بن اُبی کے مرنے کے بعد آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   چاہتے تھے کہ نبی اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائیں اور اس کے لئے آپ   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   نے کوشش بھی کی، جب حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اس کی نماز جنازہ پڑھا کر واپس ہوئے تو یہ آیت نازل ہو گئی :  وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖؕ-اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ  ‘‘  *(  توبہ:  ۸۴  )* 
 *ترجمہکنزُالعِرفان*  :اور ان میں سے کسی کی میت پر کبھی نماز جنازہ   نہ پڑھنا اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔ بیشک انہوں نے   اللہ  اور  اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اور نافرمانی کی حالت میں مرگئے۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے