کسی صحابی کو اگر نماز کی حالت میں حضور ﷺ آواز دے تو اس پر لازم ہیں وہ نماز چھوڈ کر حضور ﷺ کے حکم پر عمل کرے بعد میں وہی سے اپنی نماز پوری کرے اور دیوبندی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں نماز میں حضور ﷺ کا خیال جانور اور بیوی سے صوحبت کے خیال سے بدتر ہیں

کسی صحابی کو اگر  نماز کی حالت میں حضور ﷺ آواز دے تو اس پر لازم ہیں وہ نماز چھوڈ کر حضور ﷺ کے حکم پر عمل کرے بعد میں وہی سے اپنی نماز پوری کرے اور دیوبندی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں نماز میں حضور ﷺ کا خیال جانور اور بیوی  سے صوحبت کے خیال سے  بدتر ہیں :-*
  ترجمۂ کنز العرفان         
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے اور جان لو کہ اللہ کا حکم آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجا تا ہے اور یہ کہ اسی کی طرف تمہیں اٹھایا جائے گا۔ *(سورۃ انفال آیت نمبر 24)*
 تفسیر صراط الجنان           
 { اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ  :اللہ اور اس کے رسول کے بلانے پر حاضر ہو۔}اس آیت میں واحد کا صیغہ ’’دَعَا ‘‘ اس لئے ذکر کیا گیا کہ حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا بلانا  اللہ  عَزَّوَجَلَّ  ہی کا بلانا ہے۔ *(خازن، الانفال، تحت الآیۃ: ۲۴ ، ۲ / ۱۸۸ )*         
رسولِ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  جب بھی بلائیں تو ان کی بارگاہ میں حاضر ہونا ضروری ہے:         
اس آیت سے ثابت ہو اکہ تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   جب بھی کسی کو بلائیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ آپ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائے چاہے وہ کسی بھی کام میں مصروف ہو۔ بخاری شریف میں ہے،حضرت ابوسعید بن معلی  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ میں مسجدِ نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا کہ مجھے رسُولِ اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے بلایا، لیکن میں آپ کے بلانے پر حاضر نہ ہوا ۔ (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) میں نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کی:  یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، میں نماز پڑھ رہا تھا ۔ سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے کہ  اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ ‘‘         
 *ترجمہکنزُالعِرفان  :* اللہ اور رسول کے بلانے پر حاضر ہو جایا کروجب وہ تمہیں بلائیں۔  *( بخاری، باب ما جاء فی فاتحۃ الکتاب، ۳ / ۱۶۳ ، الحدیث: ۴۴۷۴ )*         
ایسا ہی واقعہ ایک اور حدیث میں ہے، حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ      فرماتے ہیں کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت اُبَی  بن کعب      رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی طرف تشریف لائے اور انہیں آواز دی ’’اے  اُبَی حضرت  اُبَی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی طرف دیکھا لیکن کوئی جواب نہ دیا، پھر مختصر نماز پڑھ کر نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی   اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہ  رسولِ اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا: ’’     وَعَلَیْکَ السَّلَامْ  ‘‘ اے  اُبَی جب میں نے تمہیں پکارا تو جواب دینے میں کونسی چیز رکاوٹ بنی۔ عرض کی: یا رسولَ اللہ!  میں نماز پڑھ رہا تھا، حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’کیا تم نے قرآنِ پاک میں یہ نہیں پایا کہ  ’’ اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا یُحْیِیْكُمْ  ‘‘         
 *ترجمہکنزُالعِرفان :* اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں حاضر ہوجاؤ جب وہ تمہیں اس چیز کے لئے بلائیں جو تمہیں زندگی دیتی ہے۔         
عرض کی: ہاں یا رسولَ  اللہ  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  آئندہ ایسا نہ ہو گا۔  *(ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل فاتحۃ الکتاب، ۴ / ۴۰۰ ، الحدیث: ۲۸۸۴ )*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے