*نبی کا معنی غیب کی خبریں دینے والا اہلسنت و جماعت کے سوا کوئی بھی باطل فرقہ نبی کا معنی نہیں جانتے یا جان بوجھ چھپاتے ہیں :-
*نبی کا معنی غیب کی خبریں دینے والا اہلسنت و جماعت کے سوا کوئی بھی باطل فرقہ نبی کا معنی نہیں جانتے یا جان بوجھ چھپاتے ہیں :-
ترجمۂ کنز الایمان
وہ جو غلامی کریں گے اس رسول بے پڑھے غیب کی خبریں دینے والے کی جسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے پاس توریت اور انجیل میں وہ انہیں بھلائی کا حکم دے گا اور برائی سے منع فرمائے گا اور ستھری چیزیں ان کے لیے حلال فرمائے گا اور گندی چیزیں ان پر حرام کرے گا اور ان پر سے وہ بوجھ اور گلے کے پھندے جو ان پر تھے اتا رے گا تو وہ جو اس پر ایمان لائیں اور اس کی تعظیم کریں اور اسے مدد دیں اور اس نور کی پیروی کریں جو اس کے ساتھ اترا وہی بامراد ہوئے۔ *( سورۃ الاعراف آیت نمبر 157)*
تفسیر صراط الجنان
{اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ:وہ جو رسول کی غلامی کرتے ہیں۔}مفسرین کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس آیت میں رسول سے سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مراد ہیں۔ آیت میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ذکر وصف ِرسالت سے فرمایا گیا کیونکہ آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کی مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں ، رسالت کے فرائض ادا فرماتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کے اَوامرو نَواہی ، شرائع و احکام اس کے بندوں کو پہنچاتے ہیں۔ *(خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۷، ۲ / ۱۴۶)*
اس کے بعد آپ کی توصیف میں ’’نبی ‘‘فرمایا گیا، اس کا ترجمہ سیدی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ’’غیب کی خبریں دینے والے‘‘ کیا ہے اور یہ نہایت ہی صحیح ترجمہ ہے کیونکہ نَبَاْ ’’ خبر‘‘ کے معنیٰ میں ہے اور نبی کی منفرد خبر بطورِ خاص غیب ہی کی خبر ہوتی ہے تو اس سے مراد غیب کی خبر لینا بالکل درست ہے۔ قرآنِ کریم میں یہ لفظ خبر کے معنیٰ میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہوا:’’قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌ‘‘ *(ص:۶۷)*
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ وہ (قرآن) ایک عظیم خبر ہے۔
ایک جگہ فرمایا:’’تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ‘‘ *(ہود:۴۹)*
ترجمۂ کنزُالعِرفان:یہ کچھ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کرتے ہیں۔
ایک جگہ فرمایا: ’’ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْ‘‘ *(البقرہ:۳۳)*
ترجمۂ کنزُالعِرفان:تو جب آدم نے انہیں ان اشیاء کے نام بتادیئے۔
ان کے علاوہ بکثرت آیات میں یہ لفظ اس معنیٰ میں مذکور ہے۔
پھر یہ لفظ یا فاعل کے معنی میں ہوگا یا مفعول کے معنی میں۔ پہلی صورت میں اس کے معنی ہیں ’’غیب کی خبریں دینے والے ‘‘اور دوسری صورت میں اس کے معنی ہوں گے’’ غیب کی خبریں دیئے ہوئے ‘‘ اور ان دونوں معنی کی تائید قرآنِ کریم سے ہوتی ہے ۔پہلے معنی کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے:
’’ نَبِّئْ عِبَادِیْ‘‘ *(حجر:۴۹)*
ترجمۂ کنزُالعِرفان: میرے بندوں کو خبردو۔
دوسری آیت میں فرمایا: ’’ قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ‘‘ *(ال عمران :۱۵)*
ترجمۂ کنزُالعِرفان:(اے حبیب!)تم فرماؤ ،کیا میں تمہیں بتادوں ؟
اورحضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ارشاد جو قرآنِ کریم میں وارد ہوا:
’’وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَۙ-فِیْ بُیُوْتِكُمْ‘‘ *(آل عمران:۴۹)*
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہیں غیب کی خبر دیتا ہوں جو تم کھاتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو۔
اس کا تعلق بھی اسی قسم سے ہے ۔اور دوسری صورت کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے: ’’نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ‘‘ *(التحریم:۳)*
ترجمۂ کنزُالعِرفان:مجھے علم والے خبردار (اللہ) نے بتایا۔
اور حقیقت میں انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غیب کی خبریں دینے والے ہی ہوتے ہیں۔ تفسیر خازن میں ہے کہ ’’ آپ کے وصف میں ’’نبی‘‘ فرمایا، کیونکہ نبی ہونا اعلیٰ اور اشرف مَراتب میں سے ہے اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بہت بلند درجے رکھنے والے اور اس کی طرف سے خبر دینے والے ہیں۔ *(خازن ، الاعراف، تحت الآیۃ: ۱۵۷، ۲ / ۱۴۶)*
Comments
Post a Comment