شَعَآىٕرَ اللّٰه وہ نشانی جس کو اللہ والوں سے نصبت ہو اگر کسی جانور کو اللہ والوں سے نصبت ہوجاے تو وہ حرام کیسے ہوجاےگا حرام تو تب ہوگا جب جانور کو اللہ والوں کے نام سے ذبح کیا جائے جو ایسے جانور پر حرام اور شرک کا فتویٰ دے وہ خود جانور ہیں جو عقل نہیں رکھتے یا پھر وہ لوگوں کی نیت کا علم رکھتا ہیں
شَعَآىٕرَ اللّٰه وہ نشانی جس کو اللہ والوں سے نصبت ہو اگر کسی جانور کو اللہ والوں سے نصبت ہوجاے تو وہ حرام کیسے ہوجاےگا حرام تو تب ہوگا جب جانور کو اللہ والوں کے نام سے ذبح کیا جائے جو ایسے جانور پر حرام اور شرک کا فتویٰ دے وہ خود جانور ہیں جو عقل نہیں رکھتے یا پھر وہ لوگوں کی نیت کا علم رکھتا ہیں :-*
ترجمۂ کنز العرفان
اے ایمان والو! تمام عہد پورے کیا کرو۔ تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کردیے گئے سوائے ان کے جو (آگے) تمہارے سامنے بیان کئے جائیں گے لیکن احرام کی حالت میں شکار حلال نہ سمجھو۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے۔ *(سورۃ المائدہ آیت نمبر 1)*
تفسیر صراط الجنان
(1) حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ ان عقود یعنی عہدوں سے مراد ایمان اور وہ عہد ہیں جو حرام و حلال کے متعلق قرآنِ پاک میں لئے گئے۔
{ اُحِلَّتْ لَكُمْ : تمہارے لئے حلال کردئیے گئے۔} یہاں سے حلال جانوروں کابیان کیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا کہ جن کی حرمت شریعت میں بیان ہوئی ہے ان کے سوا تمام چوپائے تمہارے لئے حلال کئے گئے۔ اس میں ان کفار کا رد ہے جو بتوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جا نور بَحِیرہ، سائبہ وغیرہ کو حرام سمجھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حرام صرف وہ ہے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حرام فرما دیں۔ حلال کے لئے
خاص دلیل کی ضرورت نہیں ، کسی چیز کا حرام نہ ہو نا ہی حلا ل کی دلیل ہے جس طرح اس آیت میں واضح طور پر فرما دیا گیا۔ اس سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو مسلمانوں کے پاکیزہ کھانوں کو حیلے بہانوں سے حرام بلکہ شرک قرار دیتے رہتے ہیں۔
وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ
*(الحج : ۳۲)*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔
اس شَعَآىٕرَ اللّٰه یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیوں میں
خانہ کعبہ، قرآنِ پاک، مساجد، اذان، بزر گوں کے مزارات وغیرہ سب ہی داخل ہیں بلکہ جس چیز کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقبول بند وں سے نسبت ہو جائے وہ بھی شَعَآىٕرَ اللّٰه بن جاتی ہے جیسے حضرت ہا جرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے قدم صفا و مروہ پہاڑوں پر پڑے تو وہ پہاڑ شَعَآىٕرَ اللّٰه بن گئے اور ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ نے فرما دیا: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِ *( البقرہ : ۱۵۸)*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں سے ہیں۔
ترجمۂ کنز العرفان
اے ایمان والو! تمام عہد پورے کیا کرو۔ تمہارے لئے چوپائے جانور حلال کردیے گئے سوائے ان کے جو (آگے) تمہارے سامنے بیان کئے جائیں گے لیکن احرام کی حالت میں شکار حلال نہ سمجھو۔ بیشک اللہ جو چاہتا ہے حکم فرماتا ہے۔ *(سورۃ المائدہ آیت نمبر 1)*
تفسیر صراط الجنان
(1) حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ ان عقود یعنی عہدوں سے مراد ایمان اور وہ عہد ہیں جو حرام و حلال کے متعلق قرآنِ پاک میں لئے گئے۔
{ اُحِلَّتْ لَكُمْ : تمہارے لئے حلال کردئیے گئے۔} یہاں سے حلال جانوروں کابیان کیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا کہ جن کی حرمت شریعت میں بیان ہوئی ہے ان کے سوا تمام چوپائے تمہارے لئے حلال کئے گئے۔ اس میں ان کفار کا رد ہے جو بتوں کے نام پر چھوڑے ہوئے جا نور بَحِیرہ، سائبہ وغیرہ کو حرام سمجھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حرام صرف وہ ہے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حرام فرما دیں۔ حلال کے لئے
خاص دلیل کی ضرورت نہیں ، کسی چیز کا حرام نہ ہو نا ہی حلا ل کی دلیل ہے جس طرح اس آیت میں واضح طور پر فرما دیا گیا۔ اس سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے جو مسلمانوں کے پاکیزہ کھانوں کو حیلے بہانوں سے حرام بلکہ شرک قرار دیتے رہتے ہیں۔
وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ
*(الحج : ۳۲)*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے۔
اس شَعَآىٕرَ اللّٰه یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیوں میں
خانہ کعبہ، قرآنِ پاک، مساجد، اذان، بزر گوں کے مزارات وغیرہ سب ہی داخل ہیں بلکہ جس چیز کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقبول بند وں سے نسبت ہو جائے وہ بھی شَعَآىٕرَ اللّٰه بن جاتی ہے جیسے حضرت ہا جرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے قدم صفا و مروہ پہاڑوں پر پڑے تو وہ پہاڑ شَعَآىٕرَ اللّٰه بن گئے اور ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ نے فرما دیا: اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىٕرِ اللّٰهِ *( البقرہ : ۱۵۸)*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں سے ہیں۔
Comments
Post a Comment