بڑی جماعت حق جماعت ہونے کی دلیل ہیں مذہب اہلِ سنت و جماعت ہے کیونکہ یہی مسلمانوں کی اکثریت کا ہے اور یہی بڑی جماعت ہے۔ مسلمانوں کا اجماع حجت اور دلیل ہے جو مسلمانوں کی بڑی جماعت سے جدا ہوا وہ جہنم میں گرا۔:

 *بڑی جماعت حق جماعت ہونے کی دلیل ہیں مذہب اہلِ سنت و جماعت ہے کیونکہ یہی مسلمانوں کی اکثریت کا ہے اور یہی بڑی جماعت ہے۔ مسلمانوں کا اجماع حجت اور دلیل ہے جو مسلمانوں کی بڑی جماعت سے جدا ہوا وہ جہنم میں گرا۔:-*
ترجمۂ کنز العرفان     
اور جو اس کے بعد کہ اس کے لئے ہدایت بالکل واضح ہوچکی رسول کی مخالفت کرے اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے تو ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے جدھر وہ پھرتا ہے اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ کتنی بری لوٹنے کی جگہ ہے۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 115)*
 تفسیر صراط الجنان       
{ وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ  : اور جو رسول کی مخالفت کرے۔}  اس آیت میں دو چیزوں سے منع کیا گیاہے جو حقیقت میں ایک ہیں۔ پہلی چیز کہ رسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی مخالفت جائز نہیں اور دوسری بات کہ مسلمانوں کے راستے سے ہٹ کر چلنا جائز نہیں کیونکہ مسلمانوں کا راستہ اطاعت ِ رسول کا راستہ ہے تو اس سے ہٹنا اطاعتِ رسول سے ہٹنا ہوگا۔       
  یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کا اجماع و اتفاق حجت و دلیل ہے اور اس کی مخالفت جائز نہیں جیساکہ کتاب و سنت کی مخالفت جائز نہیں۔ *(مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ص۲۵۳)* 
 نیز اس سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا راستہ ہی صراطِ مستقیم ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جماعت پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہاتھ ہے *( نسائی، کتاب تحریم الدم، قتل من فارق الجماعۃ۔۔۔ الخ، ص ۶۵۶ ، الحدیث: ۴۰۲۷)* 
 ایک اور حدیث میں ہے کہ سوادِ اَعْظَم یعنی بڑی جماعت کی پیروی کرو جو اس گروہ سے جدا ہوا وہ جہنم میں گرا۔ *(مستدرک، کتاب العلم، من شذّ شذّ فی النار، ۱ / ۳۱۷، الحدیث: ۴۰۳)*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-