امام کے پیچھے قراءت منع ھے
امام کے پیچھے قراءت منع ھے
قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ ہم نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہیں پڑھتے کیونکہ امام کی قرأت ہی مقتدی کی قرأت ہوتی ہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو ۔
(پارہ ٩، رکوع ١٤سورہ الانفال آیت نمبر٢٠٤)
احادیث مبارکہ:حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایاکہ امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے تو جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم چپ رہو ۔(نسائی ج ١ص١٤٦ ، ابن ماجہ ص٦١، مشکوٰۃ ص٨١)
٭ حضرت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''جس شخص کا امام ہو تو امام کی قرأت (ہی) مقتدی کی قرأت ہے ۔
(ابن ماجہ ص٦١،مصنف ابن شیبہ ج١ص٤١٤)
٭ حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا ''جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قرأت اسے کافی ہے ''۔ (موطا امام مالک ص٦٨)
٭ حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے رکعت پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو اس کی نماز نہ ہوئی مگر امام کے پیچھے ہو تو (بغیر فاتحہ) ہو جائے گی ۔ (موطا امام مالک ، ترمذی ، طحاوی)
قرآن و احادیث مبارکہ سے یہ ثابت ہوا کہ جب مقتدی امام کے پیچھے نماز ادا کرے تو کسی نماز کی کسی رکعت میں مقتدی نے سورۃ فاتحہ (الحمد شریف) نہیں پڑھنی بلکہ خاموش کھڑے رہنا ہے ۔
قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت و جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ ہم نماز میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہیں پڑھتے کیونکہ امام کی قرأت ہی مقتدی کی قرأت ہوتی ہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو کہ تم پر رحم ہو ۔
(پارہ ٩، رکوع ١٤سورہ الانفال آیت نمبر٢٠٤)
احادیث مبارکہ:حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایاکہ امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے تو جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو تم چپ رہو ۔(نسائی ج ١ص١٤٦ ، ابن ماجہ ص٦١، مشکوٰۃ ص٨١)
٭ حضرت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ''جس شخص کا امام ہو تو امام کی قرأت (ہی) مقتدی کی قرأت ہے ۔
(ابن ماجہ ص٦١،مصنف ابن شیبہ ج١ص٤١٤)
٭ حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا ''جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قرأت اسے کافی ہے ''۔ (موطا امام مالک ص٦٨)
٭ حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جس نے رکعت پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی تو اس کی نماز نہ ہوئی مگر امام کے پیچھے ہو تو (بغیر فاتحہ) ہو جائے گی ۔ (موطا امام مالک ، ترمذی ، طحاوی)
قرآن و احادیث مبارکہ سے یہ ثابت ہوا کہ جب مقتدی امام کے پیچھے نماز ادا کرے تو کسی نماز کی کسی رکعت میں مقتدی نے سورۃ فاتحہ (الحمد شریف) نہیں پڑھنی بلکہ خاموش کھڑے رہنا ہے ۔
Comments
Post a Comment