سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا شرعی حکم:-*
سفر میں دو نمازوں کو جمع کرنے کا شرعی حکم:-*
ترجمۂ کنز العرفان
پھر جب تم نماز پڑھ لوتو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے اللہ کو یاد کرو پھر جب تم مطمئن ہو جاؤ توحسب ِ معمول نماز قائم کرو بیشک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 103)*
{كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا : مقررہ وقت پر فرض ہے۔} نماز کے اوقات مقرر ہیں لہٰذا لازم ہے کہ ان اوقات کی رعایت کی جائے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر میں دو نمازیں جمع نہیں ہو سکتیں۔ احادیث میں بھی سفر کے دوران دو نمازوں کو جمع کرنے کی نفی کی گئی ہے ،چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی کوئی نماز اس کے غیر وقت میں پڑھی ہو مگر دو نمازیں کہ ایک ان میں سے نمازِمغرب ہے جسے مُزدلفہ میں عشاء کے وقت پڑھا تھا اور وہاں فجر بھی روز کے معمولی وقت سے پہلے تاریکی میں پڑھی تھی۔ *( مسلم، کتاب الحج، باب استحباب زیادۃ التغلیس بصلاۃ الصبح۔۔۔ الخ، ص۶۷۱ ، الحدیث: ۲۹۲(۱۲۸۹))*
حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک بار کے سوا کبھی کسی سفر میں مغرب و عشاء ملاکر نہ پڑھی ۔ *(ابو داؤد، کتاب صلاۃ المسافر، باب الجمع بین الصلاتین، ۲ / ۹ ، الحدیث: ۱۲۰۹)*
یاد رہے کہ جس سفر میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مغرب اور عشاء کو ملا کر پڑھا وہ حجۃ الوداع کا سفر تھا اور نویں ذی الحجہ کو مزدلفہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان دونوں نمازوں کو ملا کر پڑھا تھا اوردیگر جن احادیث میں دو نمازیں جمع کرنے کا ذکر ہے وہاں جمع صوری مراد ہے یعنی پہلی نماز آخر ی وقت میں اور دوسری نماز اول وقت میں ادا کی گئی جیساکہ درج ذیل دو روایات سے واضح ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’میں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیکھا کہ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پہنچنے کی جلدی ہوتی تو (آخری وقت سے کچھ دیر پہلے) مغرب کی اقامت کہہ کر نماز پڑھ لیتے ،سلام پھیر کر کچھ دیر ٹھہرتے پھر عشاء کی اقامت ہوتی اور نماز عشاء کی دو رکعتیں پڑھتے۔ *(بخاری، کتاب تقصیر الصلاۃ، باب یصلی المغرب ثلاثاً فی السفر، ۱ / ۳۷۴ ، الحدیث: ۱۰۹۲ )*
حضرت نافع اور حضرت عبداللہ بن واقد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے مؤذن نے نماز کے لئے کہا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:چلتے رہو، یہاں تک کہ جب شَفَق ڈوبنے کے قریب ہوئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اتر کر نمازِ مغرب پڑھی، پھر انتظار فرمایا یہاں تک کہ شفق ڈوب گئی ، اس وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نمازِ عشاء پڑھی ، پھر فرمایا ’’حضور سیّدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جب (کسی کام کی وجہ سے) جلدی ہوتی تو ایسا ہی کرتے جیسامیں نے کیا۔ *( ابو داؤد، کتاب صلاۃ المسافر، باب الجمع بین الصلاتین،۲ / ۱۰ ، الحدیث:۱۲۱۲)*
نوٹ:اس مسئلے سے متعلق تفصیلی اور تحقیقی معلومات حاصل کرنے لئے فتاوی رضویہ کی پانچویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت امام حمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی کتاب ’’ *حَاجِزُ الْبَحْرَیْنْ اَلْوَاقِیْ عَنْ جَمْعِ الصَّلَاتَینْ* (دو نمازیں ایک وقت میں پڑھنے کی ممانعت پر رسالہ) کا مطالعہ فرمائیں۔
ترجمۂ کنز العرفان
پھر جب تم نماز پڑھ لوتو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے اللہ کو یاد کرو پھر جب تم مطمئن ہو جاؤ توحسب ِ معمول نماز قائم کرو بیشک نماز مسلمانوں پر مقررہ وقت میں فرض ہے۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 103)*
{كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا : مقررہ وقت پر فرض ہے۔} نماز کے اوقات مقرر ہیں لہٰذا لازم ہے کہ ان اوقات کی رعایت کی جائے۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سفر میں دو نمازیں جمع نہیں ہو سکتیں۔ احادیث میں بھی سفر کے دوران دو نمازوں کو جمع کرنے کی نفی کی گئی ہے ،چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کبھی کوئی نماز اس کے غیر وقت میں پڑھی ہو مگر دو نمازیں کہ ایک ان میں سے نمازِمغرب ہے جسے مُزدلفہ میں عشاء کے وقت پڑھا تھا اور وہاں فجر بھی روز کے معمولی وقت سے پہلے تاریکی میں پڑھی تھی۔ *( مسلم، کتاب الحج، باب استحباب زیادۃ التغلیس بصلاۃ الصبح۔۔۔ الخ، ص۶۷۱ ، الحدیث: ۲۹۲(۱۲۸۹))*
حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک بار کے سوا کبھی کسی سفر میں مغرب و عشاء ملاکر نہ پڑھی ۔ *(ابو داؤد، کتاب صلاۃ المسافر، باب الجمع بین الصلاتین، ۲ / ۹ ، الحدیث: ۱۲۰۹)*
یاد رہے کہ جس سفر میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مغرب اور عشاء کو ملا کر پڑھا وہ حجۃ الوداع کا سفر تھا اور نویں ذی الحجہ کو مزدلفہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان دونوں نمازوں کو ملا کر پڑھا تھا اوردیگر جن احادیث میں دو نمازیں جمع کرنے کا ذکر ہے وہاں جمع صوری مراد ہے یعنی پہلی نماز آخر ی وقت میں اور دوسری نماز اول وقت میں ادا کی گئی جیساکہ درج ذیل دو روایات سے واضح ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’میں نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو دیکھا کہ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پہنچنے کی جلدی ہوتی تو (آخری وقت سے کچھ دیر پہلے) مغرب کی اقامت کہہ کر نماز پڑھ لیتے ،سلام پھیر کر کچھ دیر ٹھہرتے پھر عشاء کی اقامت ہوتی اور نماز عشاء کی دو رکعتیں پڑھتے۔ *(بخاری، کتاب تقصیر الصلاۃ، باب یصلی المغرب ثلاثاً فی السفر، ۱ / ۳۷۴ ، الحدیث: ۱۰۹۲ )*
حضرت نافع اور حضرت عبداللہ بن واقد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے مؤذن نے نماز کے لئے کہا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:چلتے رہو، یہاں تک کہ جب شَفَق ڈوبنے کے قریب ہوئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اتر کر نمازِ مغرب پڑھی، پھر انتظار فرمایا یہاں تک کہ شفق ڈوب گئی ، اس وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے نمازِ عشاء پڑھی ، پھر فرمایا ’’حضور سیّدعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جب (کسی کام کی وجہ سے) جلدی ہوتی تو ایسا ہی کرتے جیسامیں نے کیا۔ *( ابو داؤد، کتاب صلاۃ المسافر، باب الجمع بین الصلاتین،۲ / ۱۰ ، الحدیث:۱۲۱۲)*
نوٹ:اس مسئلے سے متعلق تفصیلی اور تحقیقی معلومات حاصل کرنے لئے فتاوی رضویہ کی پانچویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت امام حمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی کتاب ’’ *حَاجِزُ الْبَحْرَیْنْ اَلْوَاقِیْ عَنْ جَمْعِ الصَّلَاتَینْ* (دو نمازیں ایک وقت میں پڑھنے کی ممانعت پر رسالہ) کا مطالعہ فرمائیں۔
Comments
Post a Comment