Jumma mubarak saheri mubarak ramzan mubarak aache din ki mubarak dena mustahab Amal he

*Jumma mubarak saheri mubarak ramzan mubarak aache din ki mubarak dena mustahab Amal he*
 aap ke liye ye sab din aacha ho ye bhi dua he or dua ke liye kisi waqat or din ki pabandi nahi he hadees me zikar he jis ko Allah rasool  ﷺ haram kaha us ki siwa sab jaiyaz he  kisi din ki mubarak baad ko biddat kahna ya us per ittraz karna dewbandi wahabhi Ahle hadees biddati jammat ka kaam he ye log apni jihalat me khud gumraha he kisi amal per ittraz ke liye quran hadees ki dalil ki jarorat hoti he jo ye kahe jis kaam ko Allah rasool ne nahi kiya he ye jahilo ka usool he deen me sirf wahi usool qabol kiya jata he jo quran hadees me mawjood he apni taraf se koi usool bana ye sirf nabi ka kaam he ittraz karne walo ke quran hadees se 4 dalil post ke sath he
وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ (۱۱۶)مَتَاعٌ قَلِیْلٌ۪-وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۱۷)
 ترجمۂ کنز العرفان     
اور تمہاری زبانیں جھوٹ بولتی ہیں اس لئے نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھو ۔ بیشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ کامیاب نہ ہوں گے۔تھوڑاسا فائدہ اٹھانا ہے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ *(سورۃ النحل آیت نمبر 116/117)*
{وَ اٰثَارَهُمْ: اور ان کے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات۔} آیت کی تفسیر میں  بیان ہوا کہ لوگ جو طریقے اپنے پیچھے چھوڑ گئے وہ لکھے جارہے ہیں  ، یہ طریقے اچھے بھی ہوسکتے ہیں  اور برے بھی،دونوں  کا حکم جدا جدا ہے لہٰذا لوگ جو نیک طریقے نکالتے ہیں  ان کو بدعت ِحَسَنہ یعنی اچھی بدعت کہتے ہیں  اور اس طریقے کو نکالنے والوں  اوراس پر عمل کرنے والوں  دونوں  کو ثواب ملتا ہے اور جو برے طریقے نکالتے ہیں  ان کو بدعت ِسَیِّئہ یعنی بری بدعت کہتے ہیں ، اس طریقے کونکالنے والے اور عمل کرنے والے دونوں  گناہ گار ہوتے ہیں  ۔ مسلم شریف کی حدیث میں  ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جس شخص نے اسلام میں  نیک طریقہ نکالا اس کو طریقہ نکالنے کا بھی ثواب ملے گا اور اس پر عمل کرنے والوں  کا بھی ثواب ملے گااور عمل کرنے والوں  کے اپنے ثواب میں  کچھ کمی نہ کی جائے گی اور جس نے اسلام میں  برا طریقہ نکالا تو اس پر وہ طریقہ نکالنے کا بھی گناہ ہو گااور اس طریقے پر عمل کرنے والوں  کا بھی گناہ ہو گا اور ان عمل کرنے والوں  کے اپنے گناہ میں  کچھ کمی نہ کی جائے گی۔ *( مسلم، کتاب الزکاۃ، باب الحثّ علی الصدقۃ ولو بشقّ تمرۃ۔۔۔ الخ، ص۵۰۸، الحدیث: ۶۹(۱۰۱۷))*
ترجمۂ کنز العرفان       
وہی ہے جس نے جو کچھ زمین میں ہے سب تمہارے لئے بنایا پھر اس نے آسمان کے بنانے کاقصد فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے اوروہ ہر شے کا خوب علم رکھتا ہے۔ *(سورۃ البقرہ آیت نمبر 29)*
 *ایک اہم قاعدہ:*   
  اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس چیز سے اللہ تعالیٰ نے منع نہیں فرمایا وہ ہمارے لئے مُباح و حلال ہے۔ *(تفسیر روح المعانی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۹ ،۱ / ۲۹۱)*
اور حضرت سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، تاجدارِ رسالت صَلَّی          اللہ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’حلال وہ ہے جسے  اللہ  تعالیٰ نے اپنی کتاب میں  حلال فرمایا اور حرام وہ ہے جسے  اللہ  تعالیٰ نے اپنی کتاب میں  حرام فرمایا اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی تو وہ معاف شدہ چیزوں  میں  سے ہے۔ *(ترمذی، کتاب اللباس، باب ما جاء فی لبس الفراء،۳ / ۲۸۰ ، الحدیث:۱۷۳۲)*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے