صحابی حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دنیا میں جنّت کی خوشبوں محسوس کر لیتے ہیں اور وہابی کو دور سے سننے میں شرک نظر آتا ہیں صحابی کا جذبۂ شہادت:-

*صحابی  حضرت انس بن نضر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ دنیا میں جنّت کی خوشبوں محسوس کر لیتے ہیں اور وہابی کو دور سے سننے میں شرک نظر آتا ہیں صحابی  کا جذبۂ شہادت:-*         
حضرت انس بن مالک  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں ’’میرے چچا حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ غزوۂ بدر میں نہ جاسکے ، انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  سے عرض کی :آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے مشرکین  سے جو پہلی جنگ کی تھی میں اس میں حاضر نہ ہو سکا۔  اگر اب اللہ تعالیٰ نے مجھے کسی غزوہ میں شرکت کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ  دکھا دے گا جو میں کروں گا،  پھر جب غزوۂ اُحد کا موقع آیا توکچھ لوگ بھاگنے لگے، حضرت انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے عرض کی: اے میرے پروردگار  عَزَّوَجَلَّ ان بھاگنے والوں میں جومسلمان ہیں ، میں ان کی طرف سے معذرت خواہ  ہوں اور جو مشرک ہیں ، میں اُن سے بری ہوں۔ پھر آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ   تلوار لے کر میدانِ جنگ کی طرف دیوانہ وار بڑھے۔ راستے میں حضرت سعد بن معاذ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے ملاقات ہوئی تو فرمایا ’’اے سعد    رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ، جنت۔  اس پاک پرورد گار  عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! میں اُحد پہاڑ کے قریب جنت کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں۔ حضرت سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ُ                 فرماتے ہیں : جیسا کارنامہ انہوں نے سر انجام دیا ہم ایسا نہیں  کر سکتے ۔حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم نے انہیں شہیدوں میں اس حال میں پایا کہ ان کے جسم مبارک پر تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے اسّی (80 )  سے زائد زخم تھے، اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اعضاء جگہ جگہ سے کاٹ دیئے  گئے تھے ، آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو پہچاننا بہت      مشکل ہوچکاتھا ۔ آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی ہمشیرہ نے آپ کواُنگلیوں کے نشانات سے پہچانا۔ *(بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب قول اللہ تعالٰی: من المؤمنین رجال صدقوا الخ،۲/ ۲۵۵، الحدیث : ۲۸۰۵ ، عیون الحکایات، الحکایۃ العاشرۃ، ص ۲۷، ملتقطاً)*

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-