کافر، مرتد ، بد مذہب کو دوست بنانا اور ان سے دلی محبت رکھنا حرام ہے اگرچہ وہ کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے کو مسلمان کہتا ہو؛-

کافر، مرتد ، بد مذہب کو دوست بنانا اور ان سے دلی محبت رکھنا حرام ہے اگرچہ وہ کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے کو مسلمان کہتا ہو؛-*
 ترجمۂ کنز العرفان         
وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جیسے وہ کافر ہوئے کاش کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہوجاؤ پھرتم سب ایک جیسے ہو جاؤ۔ توتم ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک وہ اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو اور ان میں کسی کو نہ دوست بناؤ اور نہ ہی مددگار۔تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہوگئے حالانکہ اللہ نے ان کے اعمال کے سبب ان (کے دلوں ) کو الٹا دیا ہے۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کر دیا اور جسے اللہ گمراہ کردے تو ہرگز تو اس کے لئے (ہدایت کا) راستہ نہ پائے گا۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 88/89)*
 تفسیر صراط الجنان
 {فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ : تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہوگئے ؟ } اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ منافقین کی ایک جماعت کھلم کھلا مرتد ہوکر مشرکین سے جاملی۔ ان کے بارے میں صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کے دوگروہ ہوگئے ۔ایک فرقہ ان کو قتل کرنے پراصرار کررہا تھا اور ایک اُن کے قتل سے انکار کرتا تھا۔ اس معاملہ میں یہ آیت نازل ہوئی۔ *(مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۸۸، ص ۲۴۳)*
اور فرمایا کہ اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوگیا کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ بن گئے حالانکہ  اللہ  تعالیٰ نے ان کے ارتداد اور مشرکوں کے ساتھ جاملنے  کی وجہ سے ان کے دلوں کو الٹا دیا ہے، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ جسے  اللہ تعالیٰ نے گمراہ کردیا  اسے ہدایت کی راہ دکھا دو! یہ محال ہے کیونکہ جسے  اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے تو تم اس کے لئے ہدایت کاکوئی راستہ نہ پاؤ گے۔ *(روح البیان، النساء ، تحت الایۃ :۸۸،۲ / ۲۵۶)*
{ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا : وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جیسے وہ کافر ہوئے کاش کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہوجاؤ ۔}
اس سے پہلی آیات میں منافقوں کی اپنی سرکشی کا بیان ہوا اور اس آیت میں ان کے کفر و سرکشی میں حد سے بڑھنے کا بیان ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے مسلمانو! جو منافق ایمان چھوڑ کر کفر و ارتداد کی طرف پلٹ گئے وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جیسے وہ کافر ہوئے کاش کہ تم بھی ویسے ہی کافر ہوجاؤ پھرتم سب کفر میں ایک جیسے ہو جاؤ اور جب ان کا یہ حال ہے توتم ان میں سے کسی کو اس وقت تک اپنا دوست نہ بناؤ جب تک وہ  اللہ  تعالیٰ کی راہ میں ہجرت نہ کریں اور اِس سے اُن کے ایمان کا ثبوت نہ مل جائے کہ ان کا ایمان اللہ  تعالیٰ اور اس کے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی رضا کے لئے ہے کسی دنیوی مقصد کے لئے نہیں ہے، پھر اگر وہ ہجرت کرنے سے منہ پھیریں اور کفر پر قائم رہنے کو اختیار کریں تو اے مسلمانو! تم انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو اور اگر وہ تمہاری دوستی کا دعویٰ کریں اور دشمنوں کے خلاف تمہاری مدد کے لیے تیار ہوں تو ان کی مدد نہ قبول کرو کیونکہ یہ بھی دشمن ہیں۔ *(روح البیان، النساء، تحت الآیۃ:      ۸۹ ، ۲ / ۲۵۶ ، خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۸۹ ، ۱ / ۴۱۱، ملتقطاً )*
آیت ’’ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ ‘‘سے معلوم ہونے والے احکام:   
 *اس آیت سے چند باتیں معلوم ہوئیں:*   
(1 ) دوسرے کو کافر کرنے کی کوشش کرنا کفر ہے۔   
(2 )  کافر، مرتد ، بد مذہب کو دوست بنانا اور ان سے دلی محبت رکھنا حرام ہے اگرچہ وہ کلمہ پڑھتا ہو اور اپنے کو مسلمان کہتا ہو جیسے اُس زمانے کے منافق تھے۔ اعلیٰ حضرت   رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : کفار اور مشرکین سے اتحاد ووداد حرامِ قطعی ہے قرآنِ عظیم کی نُصوص اُس کی تحریم سے گونج رہے ہیں اور کچھ نہ ہو تو اتنا کافی ہے کہ  وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ *(مائدہ: ۵۱)*     
واحد قہار فرماتا ہے کہ تم میں جوکوئی ان سے دوستی رکھے گا وہ بے شک انہیں میں سے ہے۔ *(فتاوی رضویہ، ۲۱ / ۲۲۹)*   
(3) دینی امور میں مشرک سے مد د نہ لی جائے۔ حضرت ابو حُمید ساعدی   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے ،نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’ہم مشرکین سے مدد نہیں لیں گے۔      *( مستدرک، کتاب الجہاد، لا نستعین بالمشرکین علی المشرکین،  ۲ / ۴۵۶ ، الحدیث: ۲۶۱۰)*

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے