جس نے حضور ﷺ کے علم غیب پر اعترض کیا اس نے اللہ تعالیٰ کے سکھانے پر اعترض کیا نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب سے متعلق چند ضروری باتیں
*جس نے حضور ﷺ کے علم غیب پر اعترض کیا اس نے اللہ تعالیٰ کے سکھانے پر اعترض کیا نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب سے متعلق چند ضروری باتیں :
ترجمۂ کنز العرفان
اور اے حبیب! اگر تمہارے اوپراللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں ایک گروہ نے آپ کو (صحیح فیصلہ کرنے سے) ہٹانے کا ارادہ کیا تھا حالانکہ وہ اپنے آپ ہی کو گمراہ کررہے تھے اور آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 113)*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ : اور تمہیں وہ سب کچھ سکھادیا جو تم نہ جانتے تھے۔} یہ آیتِ مبارکہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی عظیم مدح پر مشتمل ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو دین کے اُمور ، شریعت کے احکام اور غیب کے وہ عُلوم عطا فرما دئیے جو آپ نہ جانتے تھے ۔
یہاں حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب سے متعلق چند ضروری باتیں ذہن نشین رکھیں کہ مسلمانوں کا عقیدہ اس بارے میں کیا ہے۔ یہ باتیں پیشِ نظررہیں تو اِنْ شَآءَ اللہُ عَزَّوَجَلَّ کوئی گمراہ بہکانہ سکے گا، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ فرماتے ہیں :
( 1) بے شک غیرِ خدا کے لیے ایک ذرہ کا علمِ ذاتی نہیں اس قدر (یعنی اتنی بات) خود ضروریاتِ دین سے ہے اور اس کامنکر کافر ہے۔
(2) بے شک غیرِ خدا کا علم اللہ تعالیٰ کی معلومات کو حاوی نہیں ہوسکتا، برابر تو درکنار۔ تمام اَوّلِین و آخِرین، اَنبیاء ومُرسَلین، ملائکہ و مقربین سب کے علوم مل کر علومِ الہِٰیّہ سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو کروڑ ہا کروڑ سمندروں سے ایک ذرا سی بوند کے کروڑویں حصے کو ہے کہ وہ تمام سمندر اور یہ بوند کا کروڑواں حصہ دونوں مُتَناہی ہیں (یعنی ان کی ایک انتہا ہے) ، اور متناہی کو متناہی سے نسبت ضرور ہے ، جبکہ اللہ تعالیٰ کے علوم وہ غیر متناہی در غیر متناہی در غیر متناہی ہیں (یعنی ان کی کوئی انتہا ہی نہیں ) اور مخلوق کے علوم اگرچہ عرش و فرش، مشرق ومغرب ،روزِ اول تا روزِآخر جملہ کائنات کو محیط ہوجائیں پھر بھی متناہی ہیں کہ عرش و فرش دو حدیں ہیں ، روزِ اول و روزِ آخر دو حدیں ہیں اور جو کچھ دو حدوں کے اندر ہو سب متناہی ہے۔
(3) بالفعل غیر متناہی کا علمِ تفصیلی مخلوق کو مل ہی نہیں سکتا تو جملہ علومِ خَلق کو علمِ الٰہی سے اصلاً نسبت ہونی محالِ قطعی ہے نہ کہ مَعَاذَاللہ تَوَہُّمِ مساوات۔
(4) اس پر اجماع ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دیئے سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کثیر و وافر غیبوں کا علم ہے یہ بھی ضروریاتِ دین سے ہے جو اِس کا منکر ہو کافر ہے کہ سرے سے نبوت ہی کا منکر ہے۔
(5) اور اس پر بھی اجماع ہے کہ اس فضل جلیل میں محمدٌ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حصہ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام و تمام جہان سے اَتَمّ و اعظم ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے حبیبِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اتنے غیبوں کا علم ہے جن کا شمار اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی جانتا ہے۔ *(فتاوی رضویہ، ۲۹ / ۴۵۰-۴۵۱ ، ملخصاً)*
یاد رہے کہ یہاں ’’ *مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ* ‘‘ میں وہ سب کچھ داخل ہے جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نہیں جانتے۔ معتبر تفاسیر میں اس کی صراحت موجود ہے۔چنانچہ درج ذیل پانچ تفاسیر میں اس کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے:
(1 ) تفسیر البحر المحیط، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳ ، ۳ / ۳۶۲ (2 ) تفسیر طبری، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳ ، ۴ / ۲۷۵ (3 )نظم الدرر ، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳ ، ۲ / ۳۱۷،(4) زاد المسیر فی علم التفسیر، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳ ، ص ۳۲۴، (5 ) روح المعانی، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳ ، ۳ / ۱۸۷
*{ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا :* اور آپ پر اللہ کافضل بہت بڑا ہے۔} امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اللہ تعالیٰ نے پوری مخلوق کو جو علم عطا فرمایا اس کے بارے میں ارشاد فرمایا: وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا *(بنی اسرائیل: ۸۵ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : اور (اے لوگو!) تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
اسی طرح پوری دنیا کے بارے میں ارشاد فرمایا : قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ *( النساء : ۷۷ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : اے حبیب! تم فرما دو کہ دنیا کاسازو سامان تھوڑا ساہے۔
تو جس کے سامنے پوری دنیا کا علم اور خود ساری دنیا قلیل ہے وہ جس کے علم کوعظیم فرما دے اس کی عظمتوں کا اندازہ کون لگا سکتا ہے ۔ *(تفسیر کبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ۴ / ۲۱۷)*
ترجمۂ کنز العرفان
اور اے حبیب! اگر تمہارے اوپراللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو ان میں ایک گروہ نے آپ کو (صحیح فیصلہ کرنے سے) ہٹانے کا ارادہ کیا تھا حالانکہ وہ اپنے آپ ہی کو گمراہ کررہے تھے اور آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے۔ *(سورۃ النساء آیت نمبر 113)*
تفسیر صراط الجنان
{ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ : اور تمہیں وہ سب کچھ سکھادیا جو تم نہ جانتے تھے۔} یہ آیتِ مبارکہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی عظیم مدح پر مشتمل ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی اور آپ کو دین کے اُمور ، شریعت کے احکام اور غیب کے وہ عُلوم عطا فرما دئیے جو آپ نہ جانتے تھے ۔
یہاں حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب سے متعلق چند ضروری باتیں ذہن نشین رکھیں کہ مسلمانوں کا عقیدہ اس بارے میں کیا ہے۔ یہ باتیں پیشِ نظررہیں تو اِنْ شَآءَ اللہُ عَزَّوَجَلَّ کوئی گمراہ بہکانہ سکے گا، چنانچہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ فرماتے ہیں :
( 1) بے شک غیرِ خدا کے لیے ایک ذرہ کا علمِ ذاتی نہیں اس قدر (یعنی اتنی بات) خود ضروریاتِ دین سے ہے اور اس کامنکر کافر ہے۔
(2) بے شک غیرِ خدا کا علم اللہ تعالیٰ کی معلومات کو حاوی نہیں ہوسکتا، برابر تو درکنار۔ تمام اَوّلِین و آخِرین، اَنبیاء ومُرسَلین، ملائکہ و مقربین سب کے علوم مل کر علومِ الہِٰیّہ سے وہ نسبت نہیں رکھ سکتے جو کروڑ ہا کروڑ سمندروں سے ایک ذرا سی بوند کے کروڑویں حصے کو ہے کہ وہ تمام سمندر اور یہ بوند کا کروڑواں حصہ دونوں مُتَناہی ہیں (یعنی ان کی ایک انتہا ہے) ، اور متناہی کو متناہی سے نسبت ضرور ہے ، جبکہ اللہ تعالیٰ کے علوم وہ غیر متناہی در غیر متناہی در غیر متناہی ہیں (یعنی ان کی کوئی انتہا ہی نہیں ) اور مخلوق کے علوم اگرچہ عرش و فرش، مشرق ومغرب ،روزِ اول تا روزِآخر جملہ کائنات کو محیط ہوجائیں پھر بھی متناہی ہیں کہ عرش و فرش دو حدیں ہیں ، روزِ اول و روزِ آخر دو حدیں ہیں اور جو کچھ دو حدوں کے اندر ہو سب متناہی ہے۔
(3) بالفعل غیر متناہی کا علمِ تفصیلی مخلوق کو مل ہی نہیں سکتا تو جملہ علومِ خَلق کو علمِ الٰہی سے اصلاً نسبت ہونی محالِ قطعی ہے نہ کہ مَعَاذَاللہ تَوَہُّمِ مساوات۔
(4) اس پر اجماع ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دیئے سے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کثیر و وافر غیبوں کا علم ہے یہ بھی ضروریاتِ دین سے ہے جو اِس کا منکر ہو کافر ہے کہ سرے سے نبوت ہی کا منکر ہے۔
(5) اور اس پر بھی اجماع ہے کہ اس فضل جلیل میں محمدٌ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حصہ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام و تمام جہان سے اَتَمّ و اعظم ہے، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے حبیبِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اتنے غیبوں کا علم ہے جن کا شمار اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی جانتا ہے۔ *(فتاوی رضویہ، ۲۹ / ۴۵۰-۴۵۱ ، ملخصاً)*
یاد رہے کہ یہاں ’’ *مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ* ‘‘ میں وہ سب کچھ داخل ہے جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نہیں جانتے۔ معتبر تفاسیر میں اس کی صراحت موجود ہے۔چنانچہ درج ذیل پانچ تفاسیر میں اس کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے:
(1 ) تفسیر البحر المحیط، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳ ، ۳ / ۳۶۲ (2 ) تفسیر طبری، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳ ، ۴ / ۲۷۵ (3 )نظم الدرر ، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳ ، ۲ / ۳۱۷،(4) زاد المسیر فی علم التفسیر، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳ ، ص ۳۲۴، (5 ) روح المعانی، النساء، تحت الایۃ: ۱۱۳ ، ۳ / ۱۸۷
*{ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا :* اور آپ پر اللہ کافضل بہت بڑا ہے۔} امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ اللہ تعالیٰ نے پوری مخلوق کو جو علم عطا فرمایا اس کے بارے میں ارشاد فرمایا: وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا *(بنی اسرائیل: ۸۵ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : اور (اے لوگو!) تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔
اسی طرح پوری دنیا کے بارے میں ارشاد فرمایا : قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ *( النساء : ۷۷ )*
*ترجمہکنزُالعِرفان* : اے حبیب! تم فرما دو کہ دنیا کاسازو سامان تھوڑا ساہے۔
تو جس کے سامنے پوری دنیا کا علم اور خود ساری دنیا قلیل ہے وہ جس کے علم کوعظیم فرما دے اس کی عظمتوں کا اندازہ کون لگا سکتا ہے ۔ *(تفسیر کبیر، النساء، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ۴ / ۲۱۷)*
Comments
Post a Comment