نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اطاعت کی اللہُ تَعَالٰی کی اطاعت حضور ﷺ کی تعظیم اللہُ تَعَالٰی ہیں حضور ﷺ کے علم پر اعترض اللہُ تَعَالٰی کے علم پر اعترض ہیں انکار کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہیں :-

نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ     کی  اطاعت کی اللہُ تَعَالٰی کی اطاعت حضور ﷺ کی تعظیم اللہُ تَعَالٰی ہیں حضور ﷺ کے علم پر اعترض اللہُ تَعَالٰی کے علم پر اعترض ہیں انکار کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہیں :-
 { اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ : اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرو۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے  مروی ہے کہ جب یہ آیت ’’ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ‘‘ نازل ہوئی تو عبد اللہ  بن اُبی منافق  نے اپنے ساتھیوں سے کہا ’’محمد (مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) اپنی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرح قرار دے رہے ہیں اور یہ حکم کر رہے ہیں کہ ہم ان سے اسی طرح محبت کریں جس طرح عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ  عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (البحر المحیط، اٰل عمران، تحت الآیۃ : ۳۲، ۲ / ۴۴۹)
اور فرمایا گیا کہ اے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ ان سے فرما دیں کہ  اللہ تعالیٰ نے میری اطاعت اس لئے واجب کی کہ میں اس کی طرف سے رسول ہوں اور چونکہ اللہ تعالیٰ کے احکام لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ اس کے رسول ہی ہیں اس لئے ان کی اطاعت و فرمانبرداری لازمی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر وہ اطاعت سے منہ پھیریں تو انہیں      اللہ  تعالیٰ کی محبت حاصل نہ ہو گی اور      اللہ تعالیٰ انہیں سزادے گا۔(تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۲، ۳ / ۱۹۸، جلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ : ۳۲، ص ۴۹ ، ملتقطاً)     
 تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  کی اطاعت ہی محبتِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کی دلیل ہے اور اسی پر نجات کا دارو مدار ہے۔  اللہ تعالیٰ نے جنت کا حصول، اپنی خوشنودی اور قرب کو حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  کی غیر مشروط  اطاعت کے ساتھ جوڑ دیا۔ اب کسی کو رضا و قربِ الٰہی ملے گا تو محبوبِ رب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ  کی غلامی کے صدقے ملے گا ورنہ دنیا جہاں کے سارے اعمال جمع کرکے لے آئے، اگر اس میں

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے