علمِ غیب کا انکار کرنے والے جاہل منافقوں جب انکار اور اقرار دونوں قسم کی آیت اور حدیث ہوگی تو اقرار والی آیت اور حدیث سے عقیدہ بنےگا ایسا تو نہیں ہو سکتا علمِ غیب دینے کے بعد واپس لے لے ایسا ہو سکتا ہیں پہلے علمِ غیب نہ دیا ہو بعد میں دیا ہو :-

علمِ غیب کا انکار کرنے والے جاہل منافقوں جب انکار اور اقرار دونوں قسم کی آیت اور حدیث ہوگی تو اقرار والی آیت اور حدیث سے عقیدہ بنےگا ایسا تو نہیں ہو سکتا علمِ غیب دینے کے بعد واپس لے لے ایسا ہو سکتا ہیں پہلے علمِ غیب نہ دیا ہو بعد میں دیا ہو :-
 سے متعلق 10 احادیث:     
 (1) حضرت معاذ بن جبل  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’میں نے اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ   کو دیکھا، اس نے اپنا دستِ قدرت میرے کندھوں کے درمیان رکھا، میرے سینے میں اس کی ٹھنڈک محسوس ہوئی، اسی وقت ہر چیز مجھ پر روشن ہوگئی اور میں نے سب کچھ پہچان لیا۔ ( سنن ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ ص، ۵ / ۱۶۰ ، الحدیث:  ۳۲۴۶)     
 (2) سنن ترمذی میں ہی حضرت  عبداللہ       بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے مروی روایت میں ہے کہ ’’جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب میرے علم میں آگیا ۔ ( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ ص ، ۵ / ۱۵۸ ،  الحدیث :  ۳۲۴۴)     
 (3) حضرت  عبداللہ  بن عمر  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’بے شک میرے سامنے اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے دنیا اٹھالی ہے اور میں اسے اور جو کچھ اس میں قیامت تک ہونے والا ہے سب کچھ ایسے دیکھ رہا ہوں جیسے اپنی ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں ، اس روشنی کے سبب جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے روشن فرمائی جیسے محمد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) سے پہلے انبیاء  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے لیے روشن کی تھی۔ (حلیۃ الاولیاء، حدیر بن کریب، ۶ / ۱۰۷  ، الحدیث :۷۹۷۹)             
 (4) حضرت حذیفہ بن اُسید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے ، حضور سید المرسلین  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا ’’گزشتہ رات مجھ پر میری اُمّت اس حجرے کے پاس میرے سامنے پیش کی گئی، بے شک میں ان کے ہر شخص کو اس سے زیادہ پہچانتا ہوں جیسا تم میں کوئی اپنے ساتھی کو پہچانتاہے ( معجم الکبیر، حذیفہ بن اسید۔ الخ  ،  ۳ / ۱۸۱ ، الحدیث :   ۳۰۵۴)     
 (5) حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں : ایک مرتبہ رسولِ اکرم   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   ہم لوگوں میں کھڑے تھے تو آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ہمیں مخلوق کی پیدائش سے بتانا شروع کیا حتّٰی کہ جنتی اپنے منازل پر جنت میں داخل ہوگئے اور جہنمی اپنے ٹھکانے پر جہنم میں پہنچ گئے ۔ جس نے اس بیان کو یاد رکھا اس نے یادرکھا جو بھول گیا سو بھول گیا۔  ( بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء فی قول اللہ تعالی: وہو الذی یبدء الخلق۔۔۔الخ،  ۲ / ۳۷۵ ، الحدیث  ۳۱۹۲ )     
 (6) مسلم شریف میں حضرت عمر و بن اخطب انصاری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، ایک دن حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے نمازِ فجر سے غروبِ آفتاب تک خطبہ ارشاد فرمایا،بیچ میں ظہر و عصر کی نمازوں کے علاوہ کچھ کام نہ کیا اس میں وہ سب کچھ ہم سے بیان فرمادیا جو کچھ قیامت تک ہونے والا تھا اور ہم میں زیادہ علم والا وہ ہے جسے زیادہ یاد رہا۔ ( مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب اخبار النبی صلی اللہ علیہ وسلم فیما یکون الی قیام الساعۃ، ص  ۱۵۴۶ ، الحدیث: ۲۵  ( ۹۲ ۲۸ ))     
 (7) حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ        فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   اُحد پہاڑ پر تشریف لے گئے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے ساتھ ابو بکر وعمر و عثمان  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  بھی تھے ، ناگاہ پہاڑ لرزنے لگا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اسے فرمایا: اے احد !ٹھہر جا کہ تجھ پر ایک نبی اور ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔  (بخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، باب قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لو کنت متخذًا خلیلًا، ۲ / ۵۲۴  ، الحدیث  :  ۳۶۷۵)     
 (8) حضرت عمر فاروق  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ غزوۂ بدر سے ایک دن پہلے نبی اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ   نے ہمیں اہلِ بدر کے گرنے یعنی مرنے کی جگہیں دکھائیں اور فرمایا :کل فلاں شخص کے گرنے یعنی مرنے کی یہ جگہ ہے۔   حضرت عمر   رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس نے حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا : جو نشان رسول  اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے جس کے لئے لگایا تھا وہ اسی پر گرا ۔ ( مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب عرض مقعد المیت من الجنۃ او النار علیہ الخ، ص ۱۵۳۶ ، الحدیث : ۷۶(۲۸۷۳))     
 (9) حضرت  عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما  فرماتے ہیں کہ سرکارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  دو ایسی قبروں کے پاس سے گزرے جن میں عذاب ہورہا تھا توارشاد فرمایا : ’’انہیں عذاب ہورہا ہے اور ان کو عذاب کسی ایسی شے کی وجہ سے نہیں دیا جارہا جس سے بچنا بہت مشکل ہو، ایک تو پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کیا کرتا تھا۔  ( بخاری، کتاب الوضو ء ، ۵۹- باب ، ۱ / ۹۶ ، الحدیث :  ۲۱۸)     
 (10) حضرت عبداللہ بن مسعود  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں : صلح حدیبیہ سے واپسی پر ایک جگہ حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  اور صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  کے اونٹ مُنتَشِر ہو گئے ،سب اپنے اپنے اونٹ واپس لے آئے لیکن حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی اونٹنی نہ ملی ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ وہاں سے اونٹنی لے آؤ، تو میں نے اونٹنی کو اسی حال میں پکڑ لیا جیسا مجھ سے رسول اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا تھا۔  (معجم الکبیر، ۱۰ / ۲۲۵ ، الحدیث : ۱۰۵۴۸)

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-