حضور ﷺ آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق کا وقت اور دن بھی جانتے ہیں اور صحابی کی موت کا وقت بھی مگر ایمان نہ لانے والے علم غیب کو نہیں مانتے :-

حضور ﷺ آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام کی تخلیق کا وقت اور دن بھی جانتے ہیں اور صحابی کی موت کا وقت بھی مگر ایمان نہ لانے والے علم غیب کو نہیں مانتے :-
چنانچہ حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں  ،حضور ِاقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا: ’’  اللہ  تعالیٰ نے زمین کو ہفتہ کے دن پیدا فرمایا اور اتوار کے دن زمین میں  پہاڑوں  کو پیدا کیا اور پیر کے دن درختوں  کو پیدا کیا اور منگل کے دن ناپسندیدہ چیزوں  کو پیدا کیا اور بدھ کے دن نور کو پیدا کیا اور جمعرات کے دن زمین پر چلنے والے جانداروں  کو پیدا کیا اور تمام مخلوق کے آخر میں  حضرت آدم عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام  کو جمعہ کے دن، اس کی ساعات میں  سے آخری ساعت میں ، عصر کے بعد سے رات کے وقت کے درمیان پیدا کیا۔(مسلم،کتاب صفۃ القیامۃ والجنّۃ والنار،باب ابتداء الخلق وخلق آدم علیہ السلام ، ص۱۵۰۰ ، الحدیث:     ۲۷(۲۷۸۹) ) 
حضرت خزرج رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں  کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے ایک انصاری صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ  کے پاس حضرت عزرائیل  عَلَیْہِ السَّلَام  کو کھڑے ہوئے دیکھا تو فرمایا: ’’اے ملک الموت! عَلَیْہِ السَّلَام میرے صحابی کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آنا کیونکہ وہ مومن ہے۔ حضرت عزرائیل  عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: ’’ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، آپ خوش رہیں  اور آپ کی آنکھیں  ٹھنڈی ہوں ،میں  آپ پر ایمان لانے والے ہر شخص کے ساتھ انتہائی نرمی اور شفقت سے پیش آتا ہوں ۔( معجم 
الکبیر، خزرج الانصاری، ۴/ ۲۲۰، الحدیث: ۴۱۸۸)

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-