*’’ دَآبَّةُ الْاَرْض ‘‘ کا تعارف وہ ایک ایسا جانور ہوگا جو مومن اور کافر دونوں کے دل کے ایمان کو بھی جانتا ہوں ہوگا انبیاء کرام بھی لوگوں کے دلوں کے ایمان کو جانتے ہیں :-

*’’ دَآبَّةُ الْاَرْض ‘‘ کا تعارف وہ ایک ایسا جانور ہوگا جو مومن اور کافر دونوں کے دل کے ایمان کو بھی جانتا ہوں ہوگا انبیاء کرام بھی لوگوں کے دلوں کے ایمان کو جانتے ہیں :-
 ترجمۂ کنز العرفان     
اور جب ان پر با ت آپڑے گی توہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو لوگوں سے کلام کرے گا اس لیے کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہ کرتے تھے۔(سورۃ النمل آیت نمبر 82)
 تفسیر صراط الجنان     
{ وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ : اور جب ان پر با ت آپڑے گی۔} مفسرین نے ’’بات 
آپڑنے‘‘ کے مختلف معنی بیان کئے ہیں۔ ( 1 ) جب کفارپر عذاب آناواجب ہوجائے گا۔ ( 2 ) جب ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب (کا وقوع لازم) ہوجائے گا۔ ( 3 ) جب ان پر حجت پوری ہو جائے گی۔یہ اس وقت ہو گا جب لوگ نیک کاموں کی دعوت دینا اور برے کاموں سے منع کرنا ترک کردیں گے۔بعض مفسرین کے نزدیک یہ اس وقت ہو گا جب کفار کی اصلاح کی کوئی امید باقی نہ رہے گی اور یہ امید قیامت قائم ہونے سے پہلے آخری زمانے میں ختم ہوگی۔ (خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۲ ، ۳ / ۴۱۹)  
ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’بات سے مراد وہ ہے جس کا کفار سے وعدہ کیا گیا یعنی قیامت قائم ہونا اور عذاب لازم ہونا اور بات آپڑنے سے مراد اس کا حاصل ہونا ہے ۔آیت سے مراد یہ ہے کہ قیامت قریب ہوجائے گی اور اس کی علامتیں ظاہر ہونے لگیں گی اور اس وقت توبہ نفع نہ دے گی۔ (مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۸۲ ، ص ۸۵۶ )  
{ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ : ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے۔} یعنی جب کفارپر با ت آپڑے گی توہم ان کے لیے زمین سے ایک عجیب و غریب جسم والاجانور نکالیں گے جو لوگوں سے فصیح و بلیغ کلام کرے گا اور کہے گا: ’’ ہٰذَا مُؤْمِنٌ وَ ہٰذَا کَافِرٌ ‘‘ یعنی یہ مومن ہے اور یہ کافر ہے ۔ (مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۸۲ ، ص ۸۵۶ )   
 اس جانور کو ’’ دَآبَّةُ الْاَرْض ‘‘ کہتے ہیں اس جانورکے بارے میں صرف اتنا جان لینا کافی ہے کہ یہ عجیب و غریب شکل کا جانور ہوگا ۔ کوہ ِصفا سے برآمد ہو کر تمام شہروں میں بہت جلد پھرے گا ۔فصاحت کے ساتھ کلام کرے گا۔ ہر شخص کی پیشانی پر ایک نشان لگائے گا ، ایمانداروں کی پیشانی پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے عصاسے نورانی خط کھینچے گا اورکافر کی پیشانی پر حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی انگوٹھی سے سیاہ مہر لگائے گا۔  
{ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ : اس لیے کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہ کرتے تھے۔} اس آیت کے بارے میں ایک احتمال یہ ہے کہ یہ کلام ’’ دَا ٓ بَّۃُ الْاَرْض ‘‘ کا ہے۔ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہو گا کہ وہ جانور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے لوگوں سے یہ کہے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہ کرتے تھے۔دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ۔اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہو گا کہ ہم یہ جانور
 اس لئے نکالیں گے کہ لوگ قرآن پاک پر ایمان نہ لاتے تھے جس میں مرنے کے بعد زندہ کئے جانے اور حساب و عذاب کا بیان ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے