جنہوں نے اولیاء اللہ کو اپنا دشمن بنالیا وہ سمجھتے جن آیات سے کافروں کے بتوں کا ردد ہوا وہاں اولیاء اللہ مراد ہیں قرآن کے نزول کے وقت صحابہ ہی اولیاء اللہ تھے گویا قرآن صحابہ کے ردد میں نازل ہوا ہیں :-

جنہوں نے اولیاء اللہ کو اپنا دشمن بنالیا وہ سمجھتے جن آیات سے کافروں کے بتوں کا ردد ہوا وہاں اولیاء اللہ مراد ہیں قرآن کے نزول کے وقت صحابہ ہی اولیاء اللہ تھے گویا قرآن صحابہ کے ردد میں نازل ہوا ہیں :-
  ترجمۂ کنز العرفان     
جنہوں نے الله کے سوا اورمددگاربنارکھے ہیں ان کی مثال مکڑی کی طرح ہے،جس نے گھر بنایا اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھرہوتا ہے۔کیا اچھا ہوتا اگر وہ جانتے۔(سورۃ العنکبوت آیت نمبر 41)
 تفسیر صراط الجنان     
{  مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ  : جنہوں    نے   اللہ کے سوا اورمددگار بنارکھے ہیں  ان کی مثال۔}   یعنی وہ لوگ جنہوں نے  اللہ تعالیٰ کو واحد معبود ماننے کی بجائے بتوں  کو معبود بنا رکھا ہے اور ان کے ساتھ امیدیں  وابستہ کی  ہوئی ہیں  اور در حقیقت ان بتوں کے عاجز اور بے اختیار ہونے کی مثال مکڑی کی طرح ہے جس نے اپنے رہنے کے لئے جالے سے گھر بنایا جو کہ انتہائی کمزور ہے اور یہ گھر نہ اس سے گرمی دور کر سکتا ہے نہ سردی ، نہ گرد و غبار اور بارش وغیرہ کسی چیز سے اس کی حفاظت کر سکتا ہے، ایسے ہی یہ بت ہیں  کہ اپنے پجاریوں  کو کوئی نفع یا نقصان پہنچانے کی قدرت نہیں  رکھتے اور نہ ہی دنیا و آخرت میں    انہیں  کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں  اور بیشک سب گھروں  میں  کمزور گھر مکڑی کا گھرہوتا ہے اور ایسے ہی سب دینوں  میں کمزور اور نِکَمّا دین بت پرستوں  کا دین ہے ۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ بت پرست یہ بات جانتے کہ ان کا دین اس قدر نکما ہے ۔  (خازن، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۱ ، ۳ / ۴۵۱  ، مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۱، ص ۸۹۳ ، ملتقطاً )  
*مکڑی کے جالے رزق میں  تنگی کا سبب ہوتے ہیں :*  
حضرت علی المرتضیٰ  کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  فرماتے ہیں : ’’اپنے گھروں    سے مکڑیوں  کے جالے دور کرو کیونکہ انہیں  (گھروں میں لگا ہوا)  چھوڑ دینا ناداری کا باعث ہوتا ہے۔  ( مدارک، العنکبوت، تحت الآیۃ: ۴۱ ، ص ۸۹۳)

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-