کسی مسلمان کو کافر کہنے والا خود کافر ہوجاتا ہیں اگرچہ جس کو کہا گیا اس میں کفر کی علامت نہ ہو کسی مسلمان کو مشرک کہنا بھی کفر ہیں اگرچہ اس میں شرک کی علامت نہ ہو مسلمان کو مشرک کہنے والے توجہ دیں :-

 کسی مسلمان کو کافر کہنے والا خود کافر ہوجاتا ہیں اگرچہ جس کو کہا گیا اس میں کفر کی علامت نہ ہو کسی مسلمان کو مشرک کہنا بھی کفر ہیں اگرچہ اس میں شرک کی علامت نہ ہو مسلمان کو مشرک کہنے والے توجہ دیں :- 

Muslim Shareef Hadees No# 124

حضرت عبداللہ بن دینار فرماتے ہیں۔انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کو کافر کہے تو یہ بات ان میں سے ایک کی طرف لوٹتی ہے۔اگر وہ ایسا ہی ہو (جس کو کافر کہا گیا تو ٹھیک ہے) ورنہ اس(کہنے والے) کی طرف لوٹ آئے گا *(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ بَيَانِ حَالِ إِيمَانِ مَنْ قَالَ لِأَخِيهِ الْمُسْلِمِ:يَا كَافِرُ؛جلد١ص نمبر٧٩؛حدیث نمبر١٢٤")* 

Kind(Sahih Hadees)

Muslim Shareef Kitabul Iman Hadees No# 124

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-