حضور ﷺ نے تمام انبیاء کرام کی امتوں کا مشاہدہ کیا :-

 حضور ﷺ نے تمام انبیاء کرام کی امتوں  کا مشاہدہ کیا :-

Muslim Shareef Hadees No# 435

حضرت حصین بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔آپ نے فرمایا تم سے کس نے وہ ستارہ دیکھا ہے جو گزشتہ رات ٹوٹا ہے(حضرت حصین فرماتے ہیں)میں نے کہا میں نے دیکھا ہے۔پھر میں نے کہا کہ میں نماز میں نہیں تھا لیکن مجھے ڈسا گیا (بچھو نے ڈسا) انہوں نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا؟ عرض کیا میں نے دم کروایا فرمایا تم نے ایسا کس بنیاد پر کیا۔عرض کیا ایک حدیث کی بنیاد پر جو حضرت شعبی نے ہم سے بیان کی۔فرمایا حضرت شعبی نے تم سے کیا بیان کیا؟میں نے کہا انہوں نے حضرت بریدہ بن حصیب اسلمی سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے فرمایا نظر لگنے اور بچھو کے ڈسنے کے علاوہ کسی چیز میں دم (زیادہ) معبد نہیں۔حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔جس نے جو کچھ سن کر اس پر عمل کیا۔اس نے اچھا کیا لیکن ہم سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔آپ نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں تو میں نے کسی نبی کو یوں دیکھا کہ ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا گروہ ہے۔کسی نبی کے ساتھ ایک یا دو مرد ہیں اور کسی نبی کے ساتھ ایک بھی نہیں کہ اچانک میرے لئے ایک جم غفیر ظاہر کیا گیا۔میں نے خیال کیا کہ یہ میری امت ہے تو مجھے بتایا گیا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور انکی قوم ہے آپ دوسروں افق کی طرف دیکھیں۔میں نے دیکھا تو بہت بڑا اجتماع تھا۔مجھے پھر کہا گیا کہ افق کی طرف دیکھیں تو میں نے ایک عظیم ہجوم دیکھا۔مجھے کہا گیا کہ یہ آپکی امت ہے اور انکے ساتھ ستر ہزار افراد ہیں جو کسی حساب وعذاب کے بغیر جنت میں جائیں گے۔پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر خانہ اقدس میں تشریف لے گئے تو صحابہ کرام نے ان لوگوں کے بارے میں غوروخوض شروع کردیاجو کسی حساب وکتاب کے بغیر جنت میں جائیں گے۔تو ان میں سے بعض نے کہا شاید یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضور علیہ السلام کی صحابیت اختیار کی اور بعض نے کہا شاید یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا۔صحابہ کرام نے مختلف توجیہات ذکر کیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔آپ نے فرمایا تم کس بات میں غور کر رہے تھے؟انہوں نے بتایا تو آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو دم نہیں کرواتے اور نہ بدشگونی لیتے ہیں اور یہ اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔حضرت عکاشہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ مجھے بھی ان میں سے کردے۔آپ نے فرمایا تم بھی ان میں سے ہو۔ایک اور شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا کہ آپ دعا فرمائیں۔اللہ تعالی مجھے ان میں سے کردے۔آپ نے فرمایا حضرت عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔ *(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ الدَّلِيلِ عَلَى دُخُولِ طَوَائِفَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ؛جلد١ص١٩٩؛حدیث نمبر٤٣٥)* 

Kind(Sahih Hadees)

Muslim Shareef Kitabul Iman Hadees No# 435

Sent from TrueIslam App!

Muslim Shareef Hadees No# 437

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم تمام جنتیوں کا چوتھا حصہ ہو۔فرماتے ہیں ہم نے نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو؟ فرماتے ہیں میں نے اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کی۔پھر فرمایا مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کا نصف ہوگےاور میں عنقریب تمہیں اس بارے میں بتاؤں گا۔کفار کے مقابلے میں مسلمان کی تعداد ایسے ہے جیسا سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال ہو یا سفید بیل کی کھال میں ایک سیاہ بال ہو۔ *(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابُ كَوْنِ هَذِهِ الْأُمَّةِ نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؛یہ امت اہل جنت کا نصف ہوگی۔جلد١ص٢٠٠؛حدیث نمبر٤٣٧)* 

Kind(Sahih Hadees)

Muslim Shareef Kitabul Iman Hadees No# 437

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے