ایمان نہ لانے کے باوجود حضور ﷺ کی وجہ سے جہنم کے عذاب میں کمی سے نفع پہنچانا :-

 ایمان نہ لانے کے باوجود حضور ﷺ کی وجہ سے جہنم کے عذاب میں کمی سے  نفع پہنچانا :-

Muslim Shareef Hadees No# 418

حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ!کیا آپ نے ابوطالب کو کوئی نفع دیا وہ آپکی حفاظت کرتے اور آپکے لئے (مخالفین پر) غضب ناک ہوتے تھے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ہاں جہنم کی آگ انکے ٹخنوں تک ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوتے۔(جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی اجازت سے ابو طالب کو فائدہ پہونچا سکتے ہیں تو مسلمانوں کو فائدہ کیسے نہیں پہنچا سکتے) *(مسلم شریف کتاب الایمان؛- بَابُ شَفَاعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَالِبٍ وَالتَّخْفِيفِ عَنْهُ بِسَبَبِهِ؛ترجمہ؛ابوطالب کے لیے تخفیف عذاب کی شفاعت؛جلد١ص١٩٤؛ حدیث نمبر٤١٨)* 

Kind(Sahih Hadees)

Muslim Shareef Kitabul Iman Hadees No# 418

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-