ایک مجلس میں تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں :-
ایک مجلس میں تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں :-
Bukhari Shareef Hadees No# 423
روایت ہے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ؛ ایک شخص نے کہا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ بتائیے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے پاس ایک شخص کو پائے تو کیا وہ اس کو قتل کردے؟ پھر ان دونوں نے مسجد میں لعان کیا (ایک دوسرے پر لعنت کی) اور میں اس کا مشاہدہ کر رہا تھا *(بخاری شریف کتاب الصلاۃ بَابُ القَضَاءِ وَاللِّعَانِ فِي المَسْجِدِ بَيْنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ؛یعنی مردوں اور عورتوں کے درمیان مسجد میں فیصلہ کرنا اور لعان کرنا؛؛ جلد ١ ص ٩٢؛؛حدیث نمبر ٤٢٣؛؛اطراف الحدیث ٤٧٤٥؛٤٧٤٦؛٥٢٥٩؛٥٣٠٨؛٥٣٠٩؛٦٨٥٤؛٧١٦٥؛٧١٦٦؛٧٣٠٤)*
(مکمل واقعہ کچھ اس طرح ہے جو کہ مسلم شریف میں موجود ہے؛ حدیث نمبر ١٤٩ میں کہ؛حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عویمر العجلانی ؛حضرت عاصم بن عدی انصاری کے پاس گئے اور ان سے کہا؛ اے عاصم! یہ بتاؤ کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پائے تو کیا اس کو قتل کردے؟ پھر تم اس کو قتل کر دو گے یا پھر وہ کیا کرے؟ اے عاصم! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے لیے اس مسلہ کا حل معلوم کرو؛ پھر حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کو ناپسند کیا؛ اور اس کی مذمت کی؛ حتیٰ کہ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات شاق گزری؛ پھر حضرت عاصم رضی اللہ عنہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ؛انہوں نے پوچھا؛ اے عاصم تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے حضرت عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا؛ میں تمہارے پاس کوئی اچھی خبر نہیں لایا ہوں؛ تم نے جو سوال کیا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ناگوار گزرا ہے؛ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا؛ اللہ کی قسم؛ میں اس سوال سے ہرگز نہیں روکوں گا؛ حتیٰ کہ میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرلوں؛پھر حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا؛ اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی(اجنبی) مرد کو پائے تو کیا وہ اس کو قتل کردے؟پھر آپ لوگ اس کو قتل کر دیں گے؟ یا پھر وہ کیا کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ؛تمہارے متعلق اور تمہاری بیوی کے متعلق حکم نازل ہو گیا ہے؛ تم جاؤ اور اس کو لے کر آؤ؛ حضرت سہل نے کہا؛ پھر ان دونوں نے لعان کیا؛ یعنی ایک دوسرے پر لعنت کی؛ اور میں بھی اس وقت لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا؛جب وہ دونوں لعان سے فارغ ہو گئے تو حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اگر میں نے اس کو اپنے پاس رکھا؛ تو پھر میں جھوٹا ہوں گا؛ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ سے پہلے اس کو تین طلاقیں دے دیں؛ ابن شہاب نے کہا یہ لعان کا طریقہ ہے؛؛؛ *(مسلم شریف ١٤٩٢؛سنن ابی داؤد ٢٢٤٥؛سنن نسائی ٣٤٠٢؛سنن ابن ماجہ ٢٠٦٦؛ )* میرے بھائیوں اس حدیث سے صراحت کے ساتھ یہ بات معلوم ہوئی کہ ایک مجلس میں تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں؛؛ اور یہ حدیث ان حضرات کے خلاف قوی حجت ہے جو ایک مجلس کی تین طلاق تین نہیں مانتے؛؛ مخالفین اس حدیث کے جواب میں کہتے ہیں کہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے لعان کے بعد تین طلاقیں دی تھیں؛ اور لعان سے عورت بائنہ ہو جاتی ہے(یعنی نکاح سے نکل جاتی ہے) اور بائنہ ہونے کے بعد طلاق کا محل نہیں رہتا؛ اس کا جواب یہ ہیکہ وہ عورت قاضی کی تفریق اور اس کے فیصلے کے بعد بائنہ ہوتی ہے اور اس حدیث میں اس بات کی تصریح موجود ہیکہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے پہلے اس کو تین طلاقیں دیں؛ لہذا جب انہوں نے طلاقیں دی تھیں تو وہ عورت بائنہ نہیں ہوئی تھیں؛ اور طلاق دینے کا محل تھا تبھی طلاقیں دیں؛؛ دوسرا جواب یہ ہیکہ؛ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر تین طلاقیں دیں کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر میں اس کو اپنے پاس رکھا؛ تو پھر میں جھوٹا ہوں گا؛ اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت عویمر رضی اللہ عنہ کے نزدیک وہ ان کے نکاح سے نہیں نکلی تھی بلکہ نکاح میں تھیں؛اور انکو اپنے پاس رکھنا ممکن تھا اور یہ طلاق کا محل تھا تبھی طلاقیں دیں؛؛؛؛
Kind(Sahih Hadees)
Bukhari Shareef Kitabus Salat Hadees No# 423
Sent from TrueIslam App!
Comments
Post a Comment