حالت نماز میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے امامت سے پیچھے ہٹنا مگر دیوبندی اسماعیل دہلوی صراط المستقیم کی کتاب میں لکھتا ہیں نماز میں حضور ﷺ کا خیال شرک کی طرف لے جاتا ان کے فرقے میں ہر تعظیم اور ادب شرک اور حرام ہوتا ہیں :-

 حالت نماز میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا حضور ﷺ کی تعظیم کے لئے امامت سے پیچھے ہٹنا مگر دیوبندی اسماعیل دہلوی صراط المستقیم کی کتاب میں لکھتا ہیں نماز میں حضور ﷺ کا خیال شرک کی طرف لے جاتا ان کے فرقے میں ہر تعظیم اور ادب شرک اور حرام ہوتا ہیں :-

Bukhari Shareef Hadees No# 684

باب۔جو شخص لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے داخل ہوا پھر پہلا(اصل)امام آگیا تب امام پیچھے ہٹے یا نہ ہٹے نماز جائز ہے؛پھر امام بخاری فرماتے ہیں کہ:اس عنوان کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ہے؛از نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (یعنی اس کے متعلق کہ ایک امام نماز پڑھا رہا تھا پھر وہ امام آگیا جو اصل امام تھا پھر وہ امام پیچھے ہٹے یا نہ ہٹے.نماز پوری ہو جائے گی) پھر امام بخاری یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ:روایت ہے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف کی طرف ان کے درمیان صلح کروانے کے لیے گئے پس نماز کا وقت آگیا؛پھر موذن حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا؛پس کہا؛کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے تو میں نماز کی اقامت پڑھوں؟حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا؛ہاں! پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھائی؛پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور لوگ اس وقت نماز پڑھنے میں مشغول تھے؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے آئے حتیٰ کہ (پہلی) صف میں آکر کھڑے ہو گئے پس لوگوں نے تالیاں بجائیں؛اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نماز میں ادھر ادھر التفات نہیں کرتے تھے جب لوگوں نے بہت زیادہ تالیاں بجائیں تو انہوں نے توجہ کی؛پس انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا؛رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ وہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں؛حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور اس پر اللہ کا شکر ادا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھاتے رہنے کا حکم دے دیا؛پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ گئے حتیٰ کہ صف کے برابر کھڑے ہو گئے؛ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی؛ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو گئے تو آپ نے فرمایا؛اے ابو بکر! تم کو اپنی جگہ برقرار رہنے سے کس چیز نے منع کیا؟ جب میں نے تمہیں (نماز پڑھاتے رہنے) کا حکم دیا تھا؟حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا؛ابو قحافہ کے بیٹے کے لیے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نماز پڑھائے؛پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں سے) فرمایا؛کیا وجہ ہے کہ میں نے تم کو بہت زیادہ تالیاں بجاتے ہوئے دیکھا؟ جس شخص کی نماز میں کوئی امر پیش آجائے وہ سبحان اللہ کہے جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو اس کی طرف التفات کیا جائے گا تالیاں بجانا صرف عورتوں کے لیے ہے؛؛؛

(بخاری شریف کتاب الاذان بَابُ مَنْ دَخَلَ لِيَؤُمَّ النَّاسَ، فَجَاءَ الإِمَامُ الأَوَّلُ، فَتَأَخَّرَ الأَوَّلُ أَوْ لَمْ يَتَأَخَّرْ، جَازَتْ صَلاَتُهُ؛جلد ١ ص ١٣٧؛حدیث نمبر ٦٨٤؛؛اطراف الحدیث ١٢٠١؛١٢٠٤؛١٢١٨؛١٢٣٤؛٢٦٩٠؛٢٦٩٣؛٧١٩٠)

Kind(Sahih Hadees)

Bukhari Shareef Kitabul Ajaan Hadees No# 684

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے