ابو طالب کے سوال پر حضور ﷺ نے اپنے علم غیب سے بتایا ستارے سے شَیاطین کو مارا جاتا ہیں اس آیات سے اللہ‎ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے علم غیب کی تصدیق کی :-

 ابو طالب کے سوال پر حضور ﷺ نے اپنے علم غیب سے بتایا ستارے سے شَیاطین کو مارا جاتا ہیں اس آیات سے اللہ‎ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے علم غیب کی تصدیق کی :- 

   ترجمۂ کنز العرفان     

آسمان کی اور رات کو آنے والے کی قسم۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ رات کو آنے والا کیا ہے؟ خوب چمکنے والا ستارا ہے۔ کوئی جان نہیں مگر اس پر نگہبان موجود ہے۔ *(سورۃ الطارق  آیت نمبر 1/4)* 

 تفسیر صراط الجنان      

{ وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ  : آسمان کی اور رات کو آنے والے کی قسم۔} شانِ نزول : ایک رات سرکارِ دو عالَم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی خدمت میں  ابو طالب کچھ ہدیہ لائے ،حضور پُر نور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   اس کو تَناوُل فرما رہے تھے کہ اسی دوران ایک ستارا ٹوٹا اور پوری فضا آگ سے بھر گئی۔ ابو طالب گھبرا کر کہنے لگے کہ یہ کیا ہے؟نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا’’کہ یہ ستارہ ہے جس سے شَیاطین مارے جاتے ہیں  اور یہ اللّٰہ  تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں  سے ہے۔ ابو طالب کو اس سے تعجب ہوا تو  اللّٰہ  تعالیٰ نے   (اپنے حبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کی تصدیق میں )   یہ آیات نازل فرمائیں۔چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی 3 آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ   اللّٰہ  تعالیٰ نے آسمان کی اور رات میں  خوب چمکنے والے ستارے کی قسم ذکر کر کے ارشاد فرمایا کہ ہر جان پر اس کے رب   عَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے ایک نگہبان مقررہے جو اس کے اعمال کی نگہبانی کرتا ہے اور اس کی نیکی بدی سب لکھ لیتا ہے۔ حضر ت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا     فرماتے ہیں  کہ یہاں  نگہبان سے مراد فرشتے ہیں ۔ *(خازن، الطّارق، تحت الآیۃ: ۱  -  ۴ ، ۴/ ۳۶۸)*    

 ان فرشتوں  کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً  ‘‘  *( انعام:  ۶۱ )*    

 *ترجمہکنزُالعِرفان*  : اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا ہے۔    

 آیت ’’  اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌ  ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:  اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں :    

(1) اگرچہ رب تعالیٰ اس بات پرقادر ہے کہ خود سب کی ہر طرح حفاظت فرمائے ، مگر قانون یہ ہے کہ یہ کام اس کے مقرر کردہ فرشتے کریں ۔    

(2) رب تعالیٰ کے بعض نام اس کے بندوں  کو دے سکتے ہیں ، جیسے   اللّٰہ   تعالیٰ کا ایک نام حافظ ہے اور یہاں  آیت میں  فرشتوں کو حافظ بتایا گیا، لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں  کہ   اللّٰہ   تعالیٰ اور اس کے حبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ     ہمارے حافظ وناصرہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب کا انکار کرنے والوں کا رد عالم و جاہل برابر ہیں ہر انسان قرآن سے مسائل نہیں سمجھ سکتا