حضور ﷺ کا جنّت اور دوزخ کو دنیا میں ہی دیکھنا قبر کے فرستے بھی اتنا علم غیب رکھتے ہیں مسلمان اور منافق کے ایمان کو جانتے ہیں مگر منافق حضور ﷺ کے علم غیب کو نہیں مانتے :-
حضور ﷺ کا جنّت اور دوزخ کو دنیا میں ہی دیکھنا قبر کے فرستے بھی اتنا علم غیب رکھتے ہیں مسلمان اور منافق کے ایمان کو جانتے ہیں مگر منافق حضور ﷺ کے علم غیب کو نہیں مانتے :-
Bukhari Shareef Hadees No# 86
حضرت اسماء(بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا) فرماتی ہیں کہ(ایک دن) میں حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس(ملاقات کو) آئی اور (دیکھا کہ) وہ اس وقت نماز پڑھ رہی تھیں (جبکہ وہ نماز کا وقت نہیں تھا تو میں نے ان سے) پوچھا(کہ یہ) لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟(یعنی یہ لوگ بے وقت نماز کیوں پڑھ رہے ہیں تو) انہوں نے (یعنی حضرت عائشہ نے) آسمان کی طرف اشارہ کیا (یعنی کیوں نماز پڑھ رہے ہیں اسکی وجہ بتائی اشارہ سے) پس اس وقت سب لوگ نماز کے قیام میں تھے؛ (پھر) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا سبحان اللہ؛(تو) میں نے پوچھا یہ کوئی نشانی ہے؟(یعنی یہ سورج کا گہن لگنا کوئی اللہ کی نشانی ہے کیا تو) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سر کے اشارے سے جواب دیا ہاں! پھر میں بھی کھڑی ہو گئی (نماز پڑھنے کے لئے) حتی کہ مجھ پر بے ہوشی چھانے لگی (وقت زیادہ ہونے کی وجہ سے) تو میں اپنے سر کے اوپر پانی ڈالنے لگی؛(تاکہ بے ہوشی دور ہو جائے)پھر (نماز کے بعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ عزوجل کی حمد و ثنا کی؛پھر ارشاد فرمایا؛ جس چیز کو میں نے(پہلے) نہیں دیکھا تھا؛اس چیز کو میں نے اس جگہ میں دیکھ لیا؛حتی کہ جنت اور دوزخ کو بھی؛(دیکھ لیا) پس میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ؛بے شک تمہاری قبروں میں تمہاری آزمائش ہوگی (یعنی قبر میں امتحان سے گزرنا ہوگا اور ایسی آزمائش ہوگی کہ)جو مسیح الدجال کی آزمائش کی مثل ہوگی یا اس کے قریب ہوگی؛(راوی کہتے ہیں) مجھے یاد نہیں کہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیا کہا تھا؛(لیکن ہاں قبر میں)کہا جائے گا کہ ِاِس شخص کے متعلق تمہیں کیا علم ہے؟(یعنی کیا تم اس شخص یعنی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کچھ جانتے ہو؟ تو جواب میں) رہا ایمان لانے والا اور یقین کرنے والے(جواب) (یہاں پر بھی راوی کہتے ہیں) مجھے یاد نہیں کہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیا کہا تھا؛(لیکن ہاں جو صاحب ایمان و یعین ہے) تو وہ کہے گا یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؛(یہ ایسے ہیں کہ) ہمارے پاس معجزات اور دلائل لے کر آئے تھے سو ہم نے ان کے پیغام پر لبیک کہا اور انکی پیروی کی اور تین دفعہ(جواب میں) کہا؛ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں؛پھر اس سے (درست جواب دینے والے سے) کہا جائے گا تم (اپنے اعمال سے) نفع اٹھاتے ہوئے سو جاؤ ہمیں معلوم تھا کہ بے شک تم اِن پر یقین کرنے والے ہو؛ اور رہا منافق یا شک کرنے والے(راوی کہتے ہیں کہ) مجھے یاد نہیں رہا کہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیا کہا تھا؛سو وہ(منافق اور شک کرنے والے جواب میں)کہے گا؛ مجھے نہیں معلوم! (کہ یہ کون ہیں ہاں) میں نے لوگوں کو جو کہتے ہوئے سنا؛ سو وہ میں نے کہہ دیا *(بخاری شریف کتاب العلم بَابُ مَنْ أَجَابَ الفُتْيَا بِإِشَارَةِ اليَدِ وَالرَّأْسِ؛جلد ١ ص ٢٨؛حدیث نمبر ٨٦؛اطرف الحديث ١٨٤؛٩٢٢؛١٠٥٣؛١٠٥٤؛١٠٦١؛١٢٣٥؛١٣٧٣؛٢٥١٩؛٢٥٢٠؛٧٢٨٧؛مسلم شریف ٩٠٥؛)*
(میرے بھائیوں یاد رکھو سورج گہن لگنا اللہ کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ہے جب سورج کو گہن لگے تو ہم سب سنت پر عمل کرتے ہوئے نماز پڑھیں؛ کیونکہ یہ اللہ کے غضب نازل ہونے کی نشانی ہے؛ تو ہمیں نماز کے ساتھ صدقہ خیرات وغیرہ بھی کرنا چاہیے ورنہ کم از کم نماز تو پڑھیں تاکہ اللہ کے غضب سے نجات ملے (2) اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سارے پردے اٹھا دئے سارے حجابات ختم کردئے اور آپ نے جنت اور دوزخ تک کو دنیا ہی سے اپنے ماتھے کی آنکھوں سے ملاحظہ کرلیا؛جیسا کے بیت المقدس اور مکہ کے درمیان کے حجابات ختم کردئے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ کر بتایا اتنی کھڑکی اتنے دروازے ہیں وغیرہ وغیرہ مفہوم حدیث؛(3) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ کرکے فرشتے سوال کرنگے قبر میں بتاؤ تمہیں انکے بارے کیا علم ہے؟ معلوم ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر میں موجود ہونگے؛ ساتھ قبر میں عذاب بھی ہوتا ہے اور اجر بھی ملتا ہے. لیکن یہاں ایک بات ہیکہ اس حدیث میں ایک ہی سوال ہے جبکہ مشہور ہیکہ تین سوال ہونگے لیکن یہاں ایک ہی سوال ذکر کیا مطلب یہ ہوا کہ سب سے اہم سوال یہی والا ہے اسی سبب یہاں اہم کو ذکر کردیا؛(4) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس چیز کو میں نے پہلے نہیں دیکھا یہاں سے اس چیز کو دیکھ لیا حتی کے جنت دوزخ کو بھی تو یہاں کس کس چیز کو دیکھا یہ عام ہے اور یہ نہیں فرمایا کہ فلاں فلاں چیز نہیں دیکھا بلکہ جس چیز کو نہیں دیکھا تھا وہ چیز دیکھ لی اب اللہ نے کیا کیا چیز دکھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا چیز دیکھی ہمیں نہیں معلوم لیکن ہاں ہمارا اللہ بھی بخیل نہیں اور ہمارے نبی بھی بخیل نہیں اللہ نے اپنے محبوب کو اپنی شان کے مطابق دیکھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شان کے مطابق دیکھا...
Kind(Sahih Hadees)
Bukhari Shareef *Kitabul Ilm Hadees No# 86*
Sent from TrueIslam App!
Comments
Post a Comment