حضور ﷺ نے جن پاکی قبروں کو توڑنے کا حکم دیا وہ مشرکین کی قبرے تھی ورنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اپنی خلافت کے وقت انبیاء کرام کی جتنی پکّی قبر تھی وہ توڑا دیتے جو اب بھی موجود ہیں :-
حضور ﷺ نے جن پاکی قبروں کو توڑنے کا حکم دیا وہ مشرکین کی قبرے تھی ورنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اپنی خلافت کے وقت انبیاء کرام کی جتنی پکّی قبر تھی وہ توڑا دیتے جو اب بھی موجود ہیں :-
Muslim Shareef Hadees No# 1076
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لائے تو مدینہ طیبہ کے بالائی حصے میں ایک قبیلے میں اترے جسے عمرو بن عوف کہا جاتا تھا۔آپ نے وہاں چودہ راتیں قیام فرمایا۔پھر آپ نے قبیلہ بنونجار کے سرداروں کو بلایا تو تلواریں لٹکائے ہوئے آئے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا میں (اب بھی) دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنی سواری پر تھے اور آپ کے پیچھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے اور بنونجار قبیلے والے آپ کے ارد گرد تھے۔حتیٰ کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر اترے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے جہاں بھی وقت ہوجاتا حتیٰ کہ بکریوں کے باڑوں میں پڑھتے پھر آپ کو مسجد بنانے کا حکم دیا گیا تو آپ نے بنو نجار کے سرداروں کو بلایا۔وہ حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا اے بنو نجار!اپنا یہ باغ مجھ پر فروخت کردو۔انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم!ہم قیمت نہیں لیں گے۔ہم اس کا بدلہ صرف اللہ تعالیٰ سے چاہتے ہیں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں بتاتا ہوں اس باغ میں کیا چیز تھیں۔اس میں کھجوروں کے درخت، مشرکین کی قبریں اور کھنڈرات تھے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے درخت کاٹ دئیے گئے، مشرکین کے قبروں کو اکھاڑ پھینکا گیا اور کھنڈرات کو ہموار کر دیا گیا۔پھر کھجور کی لکڑیوں کو قبلہ کی طرف گاڑ دیا گیا۔اور ان کی دونوں طرف پتھر لگاۓ گئے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کو رجز یہ کلمات پڑھتے تھے وہ یوں کہتے تھے۔ «اللهُمَّ إِنَّهُ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ»(یا اللہ!بھلائی تو صرف آخرت کی ہے تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما) *(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛باب ابْتِنَاءِ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛جلد١ص٣٧٣؛حدیث نمبر١٠٧٦)*
Kind(Sahih Hadees)
Muslim Shareef Kitabul Masajide Wa Mawaze Ssalate Hadees No# 1076
Sent from TrueIslam App!
Muslim Shareef Hadees No# 1084
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عیسائیوں کے ایک گرجے کا ذکر کیا جو انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا۔اس میں تصاویر تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ان لوگوں میں سے کوئی نیک آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں تصویریں رکھتے تھے۔یہ لوگ قیامت تک اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔ *(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ النَّهْيِ عَنْ بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ، عَلَى الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِ الصُّوَرِ فِيهَا وَالنَّهْيِ عَنِ اتِّخَاذِ الْقُبُورِ مَسَاجِدَ؛ترجمہ؛قبروں پر مساجد بنانے کی ممانعت؛ جلد١ص٣٧٥؛ حدیث نمبر؛١٠٨٤)*
Kind(Sahih Hadees)
Muslim Shareef Kitabul Masajide Wa Mawaze Ssalate Hadees No# 1084
Sent from TrueIslam App!
Comments
Post a Comment