نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا تو حدیث سے ثابت ہیں مگر خود کو اہلے حدیث کہنے والے اللہ‎ تعالیٰ کے ذکر کو بھی بدعت کہہ دیتے ہیں :-

 نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کرنا تو حدیث سے ثابت ہیں مگر خود کو اہلے حدیث کہنے والے اللہ‎ تعالیٰ کے ذکر کو بھی بدعت کہہ دیتے ہیں :-

Muslim Shareef Hadees No# 1218

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے اختتام کا علم تکبیر (اللہ اکبر)کے ذریعے ہوتا تھا۔ *(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ؛ترجمہ؛نماز کے بعد ذکر؛جلد١ص٤١٠؛حدیث نمبر١٢١٨)* 

Kind(Sahih Hadees)

Muslim Shareef Kitabul Masajidi Wa Mawazi is Salate Hadees No# 1218

Sent from TrueIslam App!

Muslim Shareef Hadees No# 1219

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے۔فرماتے ہیں ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہونے کا علم تکبیر کے ذریعے ہوتا تھا۔ *(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٠؛حدیث نمبر١٢١٩)* 

Kind(Sahih Hadees)

Muslim Shareef Kitabul Masajidi Wa Mawazi is Salate Hadees No# 1219

Sent from TrueIslam App!

Muslim Shareef Hadees No# 1220

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوسعید نے انہیں بتایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں فرض نماز کے بعد بلند آواز سے ذکر کیا جاتا تھا اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں مجھے اس بات سے پتہ چلتا تھا کہ نماز پڑھ چکے ہیں جب میں (ذکر) سنتا تھا۔ *(مسلم شریف؛كِتَابُ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةَ؛بَابُ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلَاةِ؛جلد١ص٤١٠؛حدیث نمبر١٢٢٠)* 

Kind(Sahih Hadees)

Muslim Shareef Kitabul Masajidi Wa Mawazi is Salate Hadees No# 1220

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-