مؤذن کی آواز کی انتہاء تک جو بھی اذان سنے گا خواہ جن ہو انسان ہو یا کوئی چیز ہو وہ اس کے حق میں قیامت کے دن گواہی دے گا اگر یہی عقیدہ حضور ﷺ کے لئے رکھا جائے ہمارے ایمان کی گواہی دینگے تو منافقوں کو اعتراض ہوگا :-
مؤذن کی آواز کی انتہاء تک جو بھی اذان سنے گا خواہ جن ہو انسان ہو یا کوئی چیز ہو وہ اس کے حق میں قیامت کے دن گواہی دے گا اگر یہی عقیدہ حضور ﷺ کے لئے رکھا جائے ہمارے ایمان کی گواہی دینگے تو منافقوں کو اعتراض ہوگا :-
Bukhari Shareef Hadees No# 609
یہ باب ہے اس متعلق کہ؛اذان بلند آواز میں دینا چاہیے؛ پھر امام بخاری فرماتے ہیں کہ؛اور عمر بن عبدالعزیز نے کہا؛عمدہ طرح اذان دو ورنہ اذان کا منصب چھوڑ دو؛؛پھر یہ حدیث نقل فرمائی کہ؛عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عبد الرحمن بن ابی صعصعہ الانصاری ثم المازنی خود اپنےوالد سے روایت ہے کہ ان کے والد سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا؛میں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں سے اور جنگل سے محبت کرتے ہو پس جب تم اپنی بکریوں میں یا اپنے جنگل میں ہو؛پھر تم اپنی نماز کی اذان دو تو اپنی آواز بلند کرکے اذان دینا کیوں کہ مؤذن کی آواز کی انتہاء تک جو بھی اذان سنے گا خواہ جن ہو انسان ہو یا کوئی چیز ہو وہ اس کے حق میں قیامت کے دن گواہی دے گا؛ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا؛میں نے اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے *(بخاری شریف کتاب الاذان بَابُ رَفْعِ الصَّوْتِ بِالنِّدَاءِ؛یعنی بلند آواز سے اذان دینا؛جلد ١ ص ٦٠٩؛اطراف الحدیث ٣٢٩٦؛٧٥٤٨)*
Kind(Sahih Hadees)
Bukhari Shareef Kitabul Ajaan Hadees No# 609
Sent from TrueIslam App!
Comments
Post a Comment