حضور ﷺ قبر والوں کی آواز بھی سنن لیتے ہیں علم غیب سے کس پر کیا عذاب ہو رہا ہیں جان لیتے ہیں نبتات بھی اللہ‎ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اس لئے قبر پر پھول ڈالے جاتے ہیں جب تک تازہ رہینگے ان کے ذکر سے عذاب میں کمی ہوگی :-

 حضور ﷺ قبر والوں کی آواز بھی سنن لیتے ہیں علم غیب سے کس پر کیا عذاب ہو رہا ہیں جان لیتے ہیں نبتات بھی اللہ‎ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اس لئے قبر پر پھول ڈالے جاتے ہیں جب تک تازہ رہینگے ان کے ذکر سے عذاب میں کمی ہوگی :-

Bukhari Shareef Hadees No# 216

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ یا مکہ کے باغات میں سے کسی باغ کے پاس سے گزرے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انسانوں کی (چیخنے کی رونے کی) آوازیں سُنی؛جنہیں ان کی قبر میں عذاب دیا جارہا تھا اور ان کو کسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیا جا رہا تھا؛ پھر فرمایا؛ کیوں نہیں؛ (انکو عذاب دئے جانے کی وجہ یہ ہیکہ) ان میں سے ایک پیشاب کے قطروں سے نہیں بچتا تھا؛اور دوسرا چغلی کھاتا تھا؛ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت کی ایک شاخ منگائی؛ پھر اس کے دو ٹکڑے کیے پھر ہر قبر کے اُوپر ان میں کا ایک ٹکڑا رکھ دیا؛ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا؛ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جب تک یہ خشک نہیں ہوں گے ان کے عذاب میں تخفیف کردی جائے گی *(بخاری شریف کتاب الوضوء بَابٌ: مِنَ الكَبَائِرِ أَنْ لاَ يَسْتَتِرَ مِنْ بَوْلِہ؛یعنی کبیرہ گناہوں میں سے یہ ہے کہ انسان پیشاب سے نہ بچے؛جلد ١ ص ٥٣؛حدیث نمبر ٢١٦؛؛؛اطراف الحدیث ٢١٨؛١٣٦١؛١٣٧٨؛٦٠٥٢؛٦٠٥٥)* 

(اسی حدیث پاک سے قبر کے پاس قرآن کی تلاوت کرنے قبر میں پھول ڈالنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے)

Kind(Sahih Hadees)

Bukhari Shareef Kitabul Wozu Hadees No# 216

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-