نماز میں کندھے کو کندھے کے ساتھ اور قدم کو قدم سے کو ملانے کا معنی ایک ترتیب اور مناسب فاصلہ ہو جس سے کسی کو حرکت میں دشواری نہ ہو مگر اہل حدیث فرقہ اس کا غلط معنی سمجھتے ہیں :-

 نماز میں کندھے کو کندھے کے ساتھ  اور قدم کو قدم سے کو ملانے کا معنی ایک ترتیب اور مناسب فاصلہ ہو جس سے کسی کو حرکت میں دشواری نہ ہو مگر اہل حدیث فرقہ اس کا غلط معنی سمجھتے ہیں :- 

Bukhari Shareef Hadees No# 725

باب؛صف میں کندھے کو کندھے کے ساتھ ملانا اور قدم کو قدم سے؛پھر امام بخاری فرماتے ہیں کہ:اور نعمان بن بشیر نے کہا؛میں نے ہم میں سے ایک شخص کو دیکھا وہ اپنے ٹخنے کو اپنے ساتھی کے ٹخنے سے ملاتا تھا؛پھر امام بخاری نے یہ حدیث بیان کی کہ:روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛تم اپنی صفیں قائم رکھو کیوں کہ میں تم کو اپنی پست کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں اور ہم میں سے ایک شخص اپنا کندھا اپنے صاحب کے کندھے سے اور اپنا قدم اپنے صاحب کے قدم سے ملاتا تھا؛ *(بخاری شریف کتاب الاذان بَابُ إِلْزَاقِ المَنْكِبِ بِالْمَنْكِبِ وَالقَدَمِ بِالقَدَمِ فِي الصَّفِّ؛جلد ١ ص ١٤٦؛حدیث نمبر ٧٢٥؛)* 

(اس حدیث کے سبب بعض لوگ نماز کی حالت میں اپنے پاس کھڑے نمازی کے ٹخنے سے اپنا ٹخنہ ملانے اور پاس کھڑے نمازی کے کندھے سے اپنا کندھا ملانا کے چکر میں لگے رہتے ہیں اور نماز کی حالت میں دیکھتے رہتے ہیں سوچتے رہتے ہیں کہ ٹخنہ ملا ہوا ہیکہ نہیں کندھا ملا ہوا ہیکہ نہیں جبکہ یہ دونوں کام کرنے اور اس کو پورے نماز میں برقرار رکھنا مشکل کام ہے حالانکہ کہ اس حدیث کا اصل مطلب یہ ہیکہ جماعت میں نمازی اپنے ٹخنے دوسرے نمازی کے ٹخنوں کے برابر مقابل میں رکھے اور اپنے کندھے کو دوسرے نمازی کے کندھے کے مقابل میں رکھے ملا کر رکھنا اس اعتبار سے بھی مشکل ہیکہ کوئی لمبا قد کا نمازی ہے کوئی چھوٹے قد کا نمازی ہے تو اگر ملانا اور چپکانے کا حکم دیا جائے بڑی دشواری ہوگی؛؛

Kind(Sahih Hadees)

Bukhari Shareef Kitabul Ajaan Hadees No# 725

Sent from TrueIslam App!

Bukhari Shareef Hadees No# 725

Comments