حضور ﷺ اپنے حوض کوثر سے منافقوں بد عقیدہ والے مرتد کو روکیں گے جنہوں نے اپنے دین کو بدل دیا ہے اسلام کے خلاف عقیدہ رکھا :-

 حضور ﷺ اپنے حوض کوثر سے منافقوں بد عقیدہ والے مرتد کو روکیں گے جنہوں نے اپنے دین کو بدل دیا ہے اسلام کے خلاف عقیدہ رکھا :- 

Muslim Shareef Hadees No# 490

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں (دوسرے) لوگوں کو وہاں سے اس طرح دور کروں گا جس طرح کوئی شخص کسی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے دور کرتا ہے۔صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے نبی!کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟ آپ نے فرمایا ہاں تمہاری علامت ہوگی جو کسی دوسرے کے لئے نہیں ہوگی۔تم میرے پاس اس طرح آؤ گے کہ وضو سے تمہارے اعضاء چمک رہے ہوں گے اور ایک گروہ کو مجھ سے روکا جائے گا تو وہ مجھ تک نہیں پہنچیں گے۔میں کہوں گا اے میرے رب!یہ میرے اصحاب ہیں تو فرشتہ مجھے جواب دیتے ہوئے کہیں گے آپکو معلوم ہے ان لوگوں نے آپکے بعد کیا کیا (یعنی مرتد ہو گئے)(امام نووی فرماتے ہیں ایک روایت میں ہے انہوں نے آپکے بعد دین کو بدل دیا۔ان لوگوں کے بارے میں اختلاف ہے ایک قول یہ ہے کہ ان سے مرتد اور منافق مراد ہیں لہٰذا ہوسکتا ہے انکے چہرے سیاہ ہوں گے اور ہر ایک انکو پہچان لے گا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو بدرجہ اولی پہچان لیں گے آپ کا سوال بطور تعجب ہوگا کہ کیا یہ میرے صحابی ہیں؟اس حدیث پاک سے بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب عطائی کی نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دیکھو اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب عطاء کیا گیا ہوتا تو آپ محشر کے دن پہچان لیتے کہ یہ لوگ کون ہیں کیسے ہیں؟ ہم اہل سنت وجماعت کہتے ہیں کہ اس حدیث پاک سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے علم غیب عطائی ثابت ہے کیونکہ محشر میں کیا ہوگا کیسے کیسے لوگ آئیں گے یہ سب غیب ہے اور اسکا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے تبھی تو بتا رہے ہیں کہ ایسے ایسے لوگ آئیں گے اور پھر یہ یہ معاملات پیش آئیں گے تو یہ ساری باتیں غیب سے متعلق ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا ہی میں بتا رہے ہیں تو یہ علم غیب عطائی کی دلیل ہے ناکہ نفی کی دلیل ہے ) *(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ؛جلد١ص٢١٧؛حدیث نمبر ٤٩٠)* 

Kind(Sahih Hadees)

Muslim Shareef Kitabut Taharat Hadees No# 490

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-