حضور ﷺ نے علم غیب سے بتایا حدیث بیان کرنے کے وقت سے 100 سال بعد تک کوئی بھی صحابہ اس دنیا میں حیات نہیں رہینگے :-

 حضور ﷺ نے علم غیب سے بتایا حدیث بیان کرنے کے وقت سے 100 سال بعد تک کوئی بھی صحابہ اس دنیا میں حیات نہیں رہینگے :-

Bukhari Shareef Hadees No# 116

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری حیات میں ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی؛ پس جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ نے کھڑے ہو کر فرمایا؛ مجھے بتاؤ یہ کونسی رات ہے؟ کیونکہ ٹھیک اس کے سو سال بعد جو لوگ اب روئے زمین پر ہیں؛ ان میں کوئی باقی نہیں رہے گا *(بخاری شریف کتاب العلم بَابُ السَّمَرِ فِي العِلْمِ؛یعنی رات کو علم کی باتیں کرنا؛ جلد ١ ص ٣٤؛حدیث نمبر ١١٦؛اطراف الحدیث ٥٦٤؛٦٠١)* 

(یاد رہے یہاں مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہیکہ آپ کی امت میں سے جو بھی اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ کے زمانہ حیات میں تھے وہ مراد ہیں؛؛؛ اور آپ اس کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ تمہاری عمر طویل نہیں قلیل ہے اس سبب جتنا ہو سکے زیادہ سے زیادہ عبادات کرو؛اس حدیث شریف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا علم غیب عطائی بھی ثابت ہوا کہ مستقبل کا علم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے عطاء فرمایا ہے؛

Kind(Sahih Hadees)

Bukhari Shareef Kitabul Ilm Hadees No# 116 

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-

نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب کا انکار کرنے والوں کا رد عالم و جاہل برابر ہیں ہر انسان قرآن سے مسائل نہیں سمجھ سکتا