صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ کی کرامت :-

 صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ کی کرامت :- 

Bukhari Shareef Hadees No# 465

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ؛نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اندھیری رات میں نکلے اور ان کے ساتھ دو چراغوں کی مثل کوئی دو چیزیں تھیں؛جو ان کے آگے روشنی کر رہی تھیں؛جب وہ جدا ہوئے تو ان میں سے ہر ایک کے ساتھ وہ چیز تھی؛حتیٰ کہ وہ اپنے اپنے گھر پہنچ گئے؛؛؛

 *(بخاری شریف کتاب الصلاۃ بَابُ إِدْخَالِ البَعِيرِ فِي المَسْجِدِ لِلْعِلَّةِ؛جلد ١ ص ١٠٠؛حدیث نمبر ٤٦٥؛اطرف الحديث ٣٦٣٩؛٣٨٠٥؛)* 

(اس حدیث پاک سے اولیاء اللہ کی کرامات کا ثبوت واضح طور پر ملتا ہے؛؛؛

Kind(Sahih Hadees)

Bukhari Shareef Kitabus Salat Hadees No# 465

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-