پہلے نماز کی اقامت پڑھے اس کے بعد صفیں درست کے لئے کھڑے ہونا سنّت ہیں :-

 پہلے نماز کی اقامت پڑھے اس کے بعد صفیں درست کے لئے کھڑے ہونا سنّت ہیں :-

Bukhari Shareef Hadees No# 640

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نماز کی اقامت پڑھی گئی پس لوگوں نے اپنی صفیں برابر کیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (حجرہ سے) باہر نکلے پس آگے بڑھے؛اس وقت آپ جنبی تھے پھر فرمایا؛تم اپنی جگہوں پر ٹھہرو پس آپ نے غسل کیا پھر آپ باہر نکلے؛اور آپ کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے پس آپ نے ان کو نماز پڑھائی؛؛ *(بخاری شریف کتاب الاذان بَابٌ: إِذَا قَالَ الإِمَامُ: مَكَانَكُمْ حَتَّى رَجَعَ انْتَظَرُوهُ؛یعنی جب امام کہے کہ تم اپنی جگہوں پر ٹھہرو حتیٰ کہ میں واپس آؤں تو وہ اس کا انتظار کریں؛جلد ١ ص ١٣٠؛حدیث نمبر ٦٤٠؛اس حدیث کی تخریج حدیث نمبر ٢٧٥ میں ملاحظہ فرمائیں)*

 (اس حدیث سے صاف واضح ہو گیا کہ اقامت کہنے سے پہلے صحابہ کرام نماز کے لئے کھڑے نہیں ہوتے تھے اقامت کہی جاتی تھی تب کھڑے ہوتے تھے اور پھر بعد اقامت صفیں درست کرتے تھے؛؛؛

Kind(Sahih Hadees)

Bukhari Shareef Kitabul Ajaan Hadees No# 640

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-