اس حدیث سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرنے والے چاہتے ہیں حضور ﷺ علم غیب کا اظہار ان کی خواہش کے مطابق کرے کافرو اور منافقوں نے بھی یہی چاہا کے کون کب کہا مریگا ماں کے پیٹ میں کیا ہے کب بارش ہوگی علم غیب کا اظہار کب کرنا کب نہیں کرنا اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ اور حضور ﷺ کا ہوتا ہیں کافرو کا نہیں :-
اس حدیث سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کرنے والے چاہتے ہیں حضور ﷺ علم غیب کا اظہار ان کی خواہش کے مطابق کرے کافرو اور منافقوں نے بھی یہی چاہا کے کون کب کہا مریگا ماں کے پیٹ میں کیا ہے کب بارش ہوگی علم غیب کا اظہار کب کرنا کب نہیں کرنا اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ اور حضور ﷺ کا ہوتا ہیں کافرو کا نہیں :-
Bukhari Shareef Hadees No# 334
تیمم کا بیان:اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو؛ پھر اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرو (النساء آیت ٤٣:المائدہ آیت ٦)(پھر امام بخاری نے یہ حدیث نقل کی ہے کہ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں نکلے حتی کہ جب ہم مقام البیدہء یا ذات الجیش میں پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا؛ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ڈھونڈنے کے لیے ٹھہر گئے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ ٹھہر گئے اور لوگ پانی کے پاس نہیں تھے؛ پھر لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور کہا؛ کیا آپ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیا کیا ہے؟ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگوں کو ٹھہرا لیا؛ اور لوگ پانی کے پاس نہیں ہیں اور نہ لوگوں کے ساتھ پانی ہے! پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ(ہمارے پاس) آئے اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے زانو پر سر رکھ کر سو چکے تھے؛ انہوں نے کہا؛ تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو ٹھہرا لیا؛ حالانکہ لوگ پانی کے پاس نہیں ہیں اور نہ لوگوں کے ساتھ پانی ہے! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ؛حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور جو اللہ نے چاہا؛ وہ کہتے رہے اور وہ اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں چٹکی لے رہے تھے اور مجھے ہلنے سے کوئی چیز مانع نہیں تھی؛ سوا اس کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میرے زانو پر تھا؛ پس اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی؛ پس تم تیمم کرو؛؛؛پھر اسید بن الحضر نے کہا؛ اے آل ابی بکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت تو نہیں ہے! حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا ؛پھر ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا؛ جس میں میں تھی تو ہم نے ہار کو اس کے نیچے پالیا *(بخاری شریف کتاب التیمم ؛جلد ١ ص ٧٤؛حدیث نمبر ٣٣٤؛اطراف الحدیث ٣٣٦؛٣٦٧٢؛٣٦٧٣؛٤٥٨٣؛٤٦٠٧؛٤٦٠٨؛٥١٦٤؛٥٢٥٠؛٥٨٨٢؛٦٨٤٤؛٦٨٤٥)*
(اس حدیث میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کس قدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام کرتی تھی.کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کوکھ میں چٹکیاں لے رہے تھے جس سے انسان کا جسم مضطرب ہو جاتا ہے؛ لیکن پھر بھی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہلی نہیں کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ نہ کھل جائے (دوسری ایک بات اور یاد رکھیں) بعض لوگ اس حدیث شریف کی بنا پر کہتے ہیں کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب ہوتا تو آپ فوراً بتا دیتے کہ فلاں جگہ ہار پڑا ہے اور جب آپ نے اس طرح بتایا نہیں تو معلوم ہوا کہ آپ کو علم غیب نہیں ہے؛ اس اعتراض کے بہت سارے جوابات علماء کرام نے دئے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں کہ؛(١) اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوراً بتا دیتے کہ ہار فلاں جگہ پڑا ہے تو ہار کو تلاش نہ کیا جاتا اور اس کو ڈھونڈنے میں دیر نہ ہوتی (تو بتاؤ آیت تیمم کے نزول کا سبب محقق ہوتا؟ تو معلوم ہوا آیت تیمم نازل ہونی تھی اس سبب یہ سارا معاملہ ہوا) پھر اعتراض کرنے والے کرتے ہیں کہ تہمت لگی تو خاموشی کیوں اختیار کی تو بھائی صاحب اگر فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے جواب دے دیتے تو قرآن پاک کے ذریعے سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت کیسے ظاہر ہوتی؟ اور سب سے اہم بات یہ ہیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہی کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی منشاء ہوتی ہے تو یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا نہیں یہ اللہ تعالیٰ کی منشاء تھی تہمت لگنے کے بعد بھی خاموش رہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی منشاء تھی اور ویسے بھی اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہیکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب اپنے آپ نہیں معلوم ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے اللہ تعالیٰ کی عطاء سے معلوم ہوتا ہے یعنی اللہ کے رسول کے بارے میں ہم علم غیب عطائی کے قائل ہیں ذاتی کہ نہیں؛؛؛ ؛؛
Kind(Sahih Hadees)
Bukhari Shareef Kitabut Tayyamum Hadees No# 334
Sent from TrueIslam App!
Comments
Post a Comment