علم غیب سے حضور ﷺ جانتے ہیں کس کو عذاب قبر ہو رہا ہے اور کس وجہ سے اور نباتات بھی اللہ‎ تعالیٰ کی تسبی پڑھتے اس لئے ان کی تسبی سے قبروالوں کے عذاب میں کمی ہوتی ہیں اس لئے قبر پر پھول ڈالے جاتے ہیں :-

 علم غیب سے حضور ﷺ جانتے ہیں کس کو عذاب قبر  ہو رہا ہے اور کس وجہ سے  اور نباتات بھی اللہ‎ تعالیٰ کی تسبی پڑھتے اس لئے ان کی تسبی سے قبروالوں کے عذاب میں کمی ہوتی ہیں اس لئے قبر پر پھول ڈالے جاتے ہیں :- 

Muslim Shareef Hadees No# 585

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑے گناہ میں عذاب نہیں ہورہا ہے بلکہ ان میں سے ایک چغلی کھاتا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔راوی فرماتے ہیں آپ نے کھجور کی ایک تر شاخ منگوائی اور اسکو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ایک کو ایک قبر پر اور دوسرے کو دوسری قبر پر گاڑ دیا۔پھر فرمایا جب تک یہ خشک نہیں ہوں گی ان دونوں سے عذاب میں تخفیف ہوگی۔(اس حدیث سے اور اس جیسی متعدد دیگر احادیث سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو غیب کی باتوں پر مطلع فرمایا تبھی تو معلوم ہوا قبر اندر عذاب ہو رہا ہے اور کس سبب ہو رہا ہے وہ بھی معلوم ہے اور یہی اہل سنت وجماعت کا عقیدہ ہے اللہ تعالیٰ اہل بدعت کو سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین) *(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الدَّليلِ عَلَى نَجَاسَةِ الْبَوْلِ وَوُجُوبِ الَاسْتِبْرَاءِ مِنْهُ؛ ترجمہ؛پیشاب کی نجاست پر دلیل اور اس سے احتراز کا وجوب: جلد١ص٢٤٠؛حدیث نمبر٥٨٥)* 

Kind(Sahih Hadees)

Muslim Shareef Kitabut Taharat Hadees No# 585

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-