حضور ﷺ کو جب اللہ تعالیٰ نے قریبی رشتہ داروں کو ڈرانے اور ایمان کی تبلیغ کا حکم دیا تو آپ نے سب رشتہ داروں اور فاطمہ!(رضی اللہ عنہا) سے فرمایا میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں اس حدیث سے حضور ﷺ کی اختیار کی نفی جہالت ہیں تبلیغ کے لئے ڈرایا جاتا ہے اور ایمان قبول کرنے کے بعد شفاعت سے اطمینان دلایا جاتا ہے :-
حضور ﷺ کو جب اللہ تعالیٰ نے قریبی رشتہ داروں کو ڈرانے اور ایمان کی تبلیغ کا حکم دیا تو آپ نے سب رشتہ داروں اور فاطمہ!(رضی اللہ عنہا) سے فرمایا میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں اس حدیث سے حضور ﷺ کی اختیار کی نفی جہالت ہیں تبلیغ کے لئے ڈرایا جاتا ہے اور ایمان قبول کرنے کے بعد شفاعت سے اطمینان دلایا جاتا ہے :-
Muslim Shareef Hadees No# 409
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔{وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]،"آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں"توحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو بلایا تو وہ سب عام وخاص جمع ہوئے۔آپ نے فرمایا اے بنو کعب بن لوی اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ، اے بنو مرہ بن کعب! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ،اے بنو عبد شمس! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ،اے بنو عبد مناف! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ اے بنو ہاشم! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ،اے بنو عبدالمطلب! اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔اے فاطمہ! (رضی اللہ عنہا) اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ۔بے شک میں تمہارے لئے کسی چیز کا مالک نہیں البتہ تمہارے ساتھ رشتہ داری ہےجسے تر رکھوں گا۔(بعض لوگ کم علمی کے سبب یہ خیال کیا کہ اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کی نفی کی ہے حالانکہ آپ نے انکو بتایا کہ عمل کرو اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اس وقت فرمایا تھا جب کے ایمان کی دعوت دے رہے تھے کیونکہ جب ایمان اور عمل ہی نہیں ہوگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قربت کوئی فائدہ نہ دیگی اسی سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ میرے بھروسے پر نہ رہنا کہ ہم ایمان لائیں یا نہ لائیں عمل کریں یا نہ کریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچا لیں گے اگر تمہارا سوچنا ہے تو غلط ہے اور اس کے ذریعے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آنے والوں کو بھی سبق دیا کہ ہر شخص ایمان اور عمل کی ضرورت ہے کسی معزز شخصیت کی اولاد ہونا کافی نہیں ورنہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کو بخشوا سکتے ہیں تو اپنوں کو کیوں نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہیکہ كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَنْقَطِعُ , إلَّا سَبَبِي وَنَسَبِي )۔ *(مسلم شریف کتاب الایمان؛ بَابٌ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} [الشعراء: ٢١٤]* *ترجمہ* ؛ اللہ تعالیٰ کا قول"اے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں"؛ *(جلد١ص١٩٢؛حدیث نمبر٤٠٩)*
Kind(Sahih Hadees)
Muslim Shareef Kitabul Iman Hadees No# 409
Sent from TrueIslam App!
Comments
Post a Comment