حضور ﷺ علم غیب سے جانتے تھے جنگ میں جہاد کرنے والا شخص جہنمی ہیں اس کی موت کا سبب بھی پہلے سے جانتے تھے اس لئے جہنمی کہا گیا :-

 حضور ﷺ علم غیب سے جانتے تھے جنگ میں جہاد کرنے والا شخص جہنمی ہیں اس کی موت کا سبب بھی پہلے سے جانتے تھے  اس لئے جہنمی کہا گیا :- 

Muslim Shareef Hadees No# 213

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ حنین میں شریک ہوئے۔آپ نے ایک شخص کے بارے میں جو اسلام کا دعویٰ کرتا تھا فرمایا یہ جہنمیوں میں سے ہے جب ہم لڑائی کے لئے حاضر ہوئے تو وہ شخص نہایت جرءت سے لڑا تو زخمی ہوگیا۔عرض کیا گیایا رسول اللہ!ابھی جس آدمی کے بارے میں آپ نے فرمایا تھا کہ وہ اہل جہنم سے ہے تو وہ خوب لڑا اور مر گیا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جہنم میں جائے گا۔پس قریب تھا کہ بعض مسلمان شک کا شکار ہو جائیں وہ اسی حالت میں تھے کہ کہا گیا وہ شخص فوت نہیں ہوا بلکہ وہ شدید زخمی ہے۔جب رات کا وقت ہوا تو وہ زخم برداشت نہ کر سکا اور اس نے خودکشی لی۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع کی گئی تو آپ نے فرمایا"اللہ اکبر"میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اسکا رسول ہوں۔پھر آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے لوگوں میں اعلان کیا کہ جنت میں وہی جائیگا جو مسلمان ہوگا اور بےشک اللہ تعالیٰ اس دین کی مدد کسی فاجر کے ذریعے بھی فرماتا ہے۔ *(مسلم شریف کتاب الایمان؛بَابُ غِلَظِ تَحْرِيمِ قَتْلِ الْإِنْسَانِ نَفْسَهُ،وَأَنَّ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي النَّارِ،وَأَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ؛جلد١ص١٠٥؛حدیث نمبر٢١٣")* 

Kind(Sahih Hadees)

Muslim Shareef Kitabul Iman Hadees No# 213

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-