قبر والے سننتے ہیں اس لئے حضور ﷺ ان کو خطاب کیا حالت نماز میں حضور ﷺ کی تعظیم :-
قبر والے سننتے ہیں اس لئے حضور ﷺ ان کو خطاب کیا حالت نماز میں حضور ﷺ کی تعظیم :-
Muslim Shareef Hadees No# 493
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان کی طرف تشریف لے گئے تو آپ نے فرمایا اے مؤمنو! ان شاءاللہ ہم تم سے ملنے والے ہیں اسکے بعد حدیث نمبر ٤٩٢ کی مثل ہے۔کچھ الفاظ کا فرق ہے۔ *(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ اسْتحْبَابِ إِطَالَةِ الْغُرَّةِ وَالتَّحْجِيلِ فِي الْوُضُوءِ؛جلد١ص٢١٨؛حدیث نمبر ٤٩٣)*
Kind(Sahih Hadees)
Muslim Shareef Kitabut Taharat Hadees No# 493
Sent from TrueIslam App!
Muslim Shareef Hadees No# 541
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔فرماتے ہیں ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور میں (دونوں) پیچھے رہ گئے۔جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو فرمایا کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں پانی کا برتن لایا تو آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں اور چہرے کو دھویا پھر اپنے بازوؤں سے کپڑا ہٹانے لگے تو جبے کی آستین تنگ تھی۔پس آپ نے جبے کے نیچے سے اپنے ہاتھوں کو نکالا اور جبے کو کندھوں پر ڈال دیا پھر بازوؤں کو دھویا اور پیشانی پر عمامہ شریف پر اور موزوں پر مسح کیا (امام ابو حنیفہ،امام شافعی اور امام مالک علیہم الرحمۃ کے نزدیک عمامہ شریف پر مسح جائز نہیں۔ہوسکتا ہے راوی نے سر کے مسح کو عمامہ کا مسح سمجھا ہو کیونکہ ہو سکتا ہے آپ نے سر پر عمامہ رکھتے ہوئے سر کا مسح کیا ہو۔) اسکے بعد آپ سوار ہوئے اور میں بھی سوار ہوا حتیٰ کہ صحابہ کرام سے جا ملے۔انہوں نے نماز شروع کر دی تھی۔حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ انکی امامت فرمارہےتھے اور وہ ایک رکعت پڑھ چکے تھے۔جب انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کو محسوس کیا تو پیچھے ہٹنے لگے۔آپ نے انکو اشارہ فرمایا تو انہوں نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی۔جب سلام پھیرا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور میں بھی آپکے ساتھ کھڑا ہوا پس ہم نے وہ رکعت پڑھی جو ہم سے پہلے پڑھی جا چکی تھی۔ *(مسلم شریف کتاب الطہارۃ؛بَابُ الْمَسْحِ عَلَى النَّاصِيَةِ وَالْعِمَامَةِ؛عمامہ اور پیشانی پر مسح کرنے کا بیان؛جلد١ص٢٣٠؛حدیث نمبر ٥٤١)*
Kind(Sahih Hadees)
Muslim Shareef Kitabut Taharat Hadees No# 541
Sent from TrueIslam App!
Comments
Post a Comment