فضول کام کرنے پر صحابی کی کبھی بات نہ کرنے کی ناراضگی :-

 فضول  کام   کرنے پر صحابی کی کبھی بات نہ کرنے کی ناراضگی :-

Ibne Majah Shareef Hadees No# 17

حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن مغفل کے پہلو(بازوں)میں ان کا ایک بھتیجا بیٹھا تھا؛ اس نے کنکریاں پھیکنی شروع کیں؛ عبد اللہ نے اسے روکا اور فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کام سے منع فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ کنکری پھینکنے سے نہ تو شکار کھیلا جا سکتا ہے؛ اور نہ دشمن کو زخمی کیا جاسکتا ہے؛ ہاں یہ فعل کسی کا (راہ چلتے) دانت توڑ سکتا اور آنکھ پھوڑ سکتا ہے؛ سعید بن زبیر کہتے ہیں کہ اس نے یعنی عبد اللہ بن مغفل کے بھیجتے نے دوبارہ یہی حرکت کی عبد اللہ نے فرمایا میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت بیان کر رہا ہوں اور تو پھر بھی یہی حرکت کر رہے ہو میں تم سے کبھی کلام نہ کروں گا *(سنن ابن ماجہ شریف باب تعظیم حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والتغلیظ علی من عارضہ؛جلد ١ ص ١٣؛حدیث نمبر ١٧؛)* 

Kind(Sahih Hadees)

Ibne majah sharif Hadees No# 17

Sent from TrueIslam App!

Comments

Popular posts from this blog

اگر کوئی اولیاء اللہ کو غریب نواز گوشہ اعظم کہہ دے تو اس پر شرک کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں یوسف علیہ السلام نے تو اپنے پرورش کرنے والے کو اپنا رب کہا ہیں الفاظ کے ساتھ نیت بھی دیکھی جاتی ہیں :-

حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا عقیدہ انبیاء کرام آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہیں دیکھ لیتے ہیں دیوبندی عقیدہ حضور ﷺ کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں :-

اس آیت میں ذاتی علم غیب کا انکار ہیں خود سے جاننے کا اگر اس کی اگلی پیچھلی آیت پڑھوگے تو سمجھ جاؤگے یہ آیت کافروں کو سنانے کے لئے ہی اس آیت میں کل غیب کا انکار ہیں جو خود قرآن کی دوسری آیت کے خلاف ہوگا اب کافر ہی اس آیت سے حضور ﷺ کے علم غیب کا انکار کریگا :-