حضور ﷺ نے علم غیب سے کھائی والوں کے واقعہ سے بتایا اولیا اللہ‎ کو اللہ‎ تعالیٰ شفا دینے آندھے کو ٹھیک کرنے اور بہت سے کرامات عطا فرماتا ہیں :-

 حضور ﷺ نے علم غیب سے کھائی والوں  کے  واقعہ سے بتایا اولیا اللہ‎ کو اللہ‎ تعالیٰ شفا دینے آندھے کو ٹھیک کرنے اور بہت سے کرامات عطا فرماتا ہیں :-

ترجمۂ کنز العرفان   

کھائی والوں پر لعنت ہو۔ بھڑکتی آ گ والے۔ جب وہ اس کے کناروں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اور وہ خود اس پر گواہ ہیں جووہ 

مسلمانوں کے ساتھ کر رہے تھے۔ *(سورۃ البروج آیت نمبر 4/7)* 

 یہاں کھائی والوں  کا جو واقعہ ذکر کیا گیا اس کے بارے میں حضرت صہیب رومی   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ   سے روایت ہے،نبی کریم   صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ   نے ارشاد فرمایا’’تم سے پہلے زمانے میں   ایک بادشاہ تھا اور اس کا ایک جادو گر تھا، جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اس نے بادشاہ سے کہا :اب میں   بوڑھا ہو گیا ہوں ،آپ میرے پاس ایک لڑکا بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھادوں   ۔بادشاہ نے اس کے پاس جادو سیکھنے کے لئے ایک لڑکابھیج دیا،وہ لڑکا جس راستے سے گزر کرجادو گر کے پاس جاتا اس راستے میں   ایک راہب رہتا تھا،وہ لڑکا  (روزانہ)  اس راہب کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں   سننے لگا اور اُس راہب کا کلام اِس لڑکے کے دل میں   اترتاجا رہا تھا ۔جب وہ لڑکا جادو گر کے پاس پہنچتا تو  (دیر سے آنے پر)  جادو گر اسے مارتا۔لڑکے نے راہب سے اس کی شکایت کی تو راہب نے کہا:جب تمہیں  جا دو گر سے خوف ہو تو کہہ دینا:گھر والوں   نے روک لیا تھا اور جب گھر والوں   سے خوف ہو تو ان سے کہہ دینا کہ جادو گر نے مجھے روک لیا تھا۔ یہ سلسلہ یونہی جاری تھا کہ اسی دوران ایک بڑے درندے نے لوگوں  کا راستہ بند کر دیا، لڑکے نے سوچا : آج میں  آزماؤں  گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب؟چنانچہ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور کہا:اے  اللّٰہ !   عَزَّوَجَلَّ ، اگر تجھے راہب کے کام جادو گر سے زیادہ پسند ہیں   تو اس پتھر سے جانور کو ہلاک کر دے تاکہ لوگ راستے سے گزر سکیں ۔ چنانچہ جب لڑکے نے پتھر مارا تو وہ جانور اس کے پتھر سے مر گیا۔پھر اس نے راہب کے پاس جا کر اسے اس واقعے کی خبر دی تو اس نے کہا:اے بیٹے! آج تم مجھ سے افضل ہو گئے ہو،تمہارا مرتبہ وہاں  تک پہنچ گیا ہے جسے میں   دیکھ رہا ہوں ۔ عنقریب تم مصیبت میں  گرفتار ہو گے اور جب تم مصیبت میں   گرفتار ہو تو کسی کو میرا پتا نہ دینا۔  (اس کے بعد اس لڑکے کی دعائیں   قبول ہونے لگیں )  اور اس کی دعا سے مادر زاد اندھے اور برص کے مریض اچھے ہونے لگ گئے اور وہ تمام بیماریوں  کا علاج کرنے لگا ۔ بادشاہ کا ایک ساتھی نابینا ہوگیا تھا ،اس نے جب یہ خبر سنی تو وہ اس لڑکے کے پاس بہت سے تحائف لے کر آیا اور اس سے کہا: اگر تم نے مجھے شفا دے دی تو میں   یہ سب چیزیں   تمہیں  دے دوں  گا۔لڑکے نے کہا:میں  کسی کو شفا نہیں   دیتا بلکہ شفا تو اللّٰہ تعالیٰ  دیتا ہے،اگر تم  اللّٰہ  تعالیٰ پر ایمان لے آؤ تو میں  اللّٰہ  تعالیٰ سے دعاکروں  گا اور وہ تمہیں  شفا عطا کرد ے گا۔ چنانچہ وہ  اللّٰہ  تعالیٰ پر ایمان لے آیاتو  اللّٰہ  تعالیٰ نے اسے شفا دے دی۔جب وہ بادشاہ کے پاس گیا اور پہلے کی طرح اس کے پاس بیٹھا تو بادشاہ نے پوچھا:تمہاری بینائی کس نے لوٹائی ہے؟اس نے کہا: میرے رب   عَزَّوَجَلَّ   نے ۔بادشاہ نے کہا:کیا میرے سوا تیرا کوئی رب ہے؟  اس نے کہا :ہاں   ! میرا اور تمہارا رب   اللّٰہ  تعالیٰ ہے۔یہ سن کر بادشاہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس  وقت تک اسے اَذِیَّت دیتا رہا جب تک اس نے لڑکے کا پتا نہ بتا دیا۔پھر اس لڑکے کو لایا گیا اور بادشاہ نے اس سے کہا: اے بیٹے!تمہارا جادو یہاں   تک پہنچ گیا ہے کہ تم مادر زاد اندھوں  کو ٹھیک کر دیتے ہو،برص کے مریضوں  کو تندرست کر دیتے ہو اور اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ کرتے ہو۔اس لڑکے نے کہا:میں   کسی کو شفا نہیں   دیتا بلکہ شفا تو میرا  اللّٰہ  تعالیٰ دیتا ہے۔ بادشاہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس وقت تک اسے اَذِیَّت دیتا رہا جب تک اس نے راہب کا پتا نہ بتا دیا۔پھر راہب کو لایا گیا اور اس سے کہا گیا کہ اپنے دین سے پھر جاؤ۔راہب نے انکار کیا تو بادشاہ نے آرا منگوا کر اس کے سر کے درمیان رکھا اور اسے آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا۔ پھر اس نے اپنے ساتھی کو بلایا اور اس سے کہا کہ اپنے دین سے پھر جاؤ۔ اس نے انکار کیا تو بادشاہ نے اسے بھی آرے سے چیر کر دو ٹکڑے کر دیا۔پھر اس لڑکے کو بلایا اور اس سے کہا کہ اپنے دین سے پھر جاؤ۔اس لڑکے نے انکار کیا تو بادشاہ نے اپنے چند ساتھیوں سے کہا:اس لڑکے کو فلاں   پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے لے کر پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاؤ،اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو ٹھیک ورنہ اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا۔وہ لوگ اس لڑکے کو لے کر گئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے۔اس لڑکے نے دعا کی! اے  اللّٰہ !   عَزَّوَجَلَّ ، تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے۔اسی وقت ایک زلزلہ آیا اور وہ سب لوگ پہاڑ سے نیچے گر گئے۔اس کے بعد وہ لڑکا بادشاہ کے پاس چلا گیا تو بادشاہ نے اس سے پوچھا! جو لوگ تمہارے ساتھ گئے تھے ان کا کیا ہوا؟ لڑکے نے جواب دیا کہ  اللّٰہ  تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا۔بادشاہ نے پھر اسے اپنے چند ساتھیوں  کے حوالے کیا اور کہا کہ اسے ایک کشتی میں  سوار کر کے سمندر کے وسط میں   لے جاؤ،اگر یہ اپنا دین چھوڑ دے تو ٹھیک ورنہ اسے سمندر میں   پھینک دینا۔وہ لوگ اسے سمندر میں   لے گئے تو اس نے دعا کی:اے   اللّٰہ !   عَزَّوَجَلَّ ، تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے۔وہ  کشتی فوراً الٹ گئی اور  اس لڑکے کے علاوہ سب لوگ غرق ہو گئے۔وہ لڑکا پھر بادشاہ کے پاس چلا گیا تو بادشاہ نے پوچھا:جو لوگ تمہارے ساتھ گئے تھے ان کا کیا ہوا؟اس نے کہا: اللّٰہ  تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا۔پھر اس نے بادشاہ سے کہا: تم مجھے اس وقت تک قتل نہیں   کر سکو گے جب تک میرے کہنے کے مطابق عمل نہ کرو۔ بادشاہ نے وہ عمل پوچھا تو لڑکے نے کہا: تم ایک میدان میں   سب لوگوں کو جمع کرو اور مجھے کھجور کے تنے پر سولی دو، پھر میرے تَرکَش سے ایک تیر نکال کر   بِسْمِ اللّٰہِ  رَبِّ الْغُلَامْ   کہہ کر مجھے مارو، اگر تم نے ایساکیا تو وہ تیر مجھے قتل کر دے گا۔چنانچہ بادشاہ نے تمام لوگوں   کو ایک میدان  میں جمع کیا اور اس لڑکے کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عمل کر کے تیر چھوڑدیا، وہ تیر لڑکے کی کنپٹی میں   پَیْوَسْت ہو گیا،لڑکے نے تیر لگنے کی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھا اور انتقال کرگیا۔ یہ دیکھ کر تمام لوگوں   نے کہا کہ ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے،ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے،ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے۔ بادشاہ کو اس واقعے کی خبردی گئی اور اس سے کہا گیا کہ کیا تم نے دیکھا کہ جس سے تم ڈرتے تھے  اللّٰہ  تعالیٰ نے وہی کچھ تمہارے ساتھ کر دیا اور تمام لوگ ایمان لے آئے۔ اس نے گلیوں   کے دہانوں   پر خندقیں   کھودنے کا حکم دیا، جب ان کی کھدائی مکمل ہوئی تو ان میں  آگ جلوائی گئی،پھر بادشاہ نے حکم دیا کہ جو اپنے دین سے نہ پھرے اسے آگ میں  ڈال دو۔چنانچہ لوگ اس آگ میں   ڈالے جانے لگے یہاں  تک کہ ایک عورت آئی اور اس کی گود میں بچہ تھا ، وہ ذرا جھجکی توبچے نے کہا: اے ماں صبر کر! اور جھجک نہیں   تو سچے دین پر ہے  اور وہ بچہ اور ماں بھی آگ میں ڈال دیئے گئے) ۔ *(مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب قصۃ اصحاب الاخدود الخ، ص ۱۶۰۰ ، الحدیث: ۷۳(۳۰۰۵) )* 

اور حضرت ربیع بن انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں   کہ جو مومن آگ میں   ڈالے گئے  اللّٰہ  تعالیٰ نے اُن کے آگ میں   پڑنے سے پہلے ہی اُن کی رُوحیں   قبض فرما کر انہیں نجات دی اور آگ نے خندق کے کناروں   سے باہر نکل کر کنارے پر بیٹھے ہوئے کفار کو جلا دیا۔ *(  خازن، البروج، تحت الآیۃ:  ۵ ،  ۴  /  ۳۶۶ )* 

کھائی والوں   کے واقعے سے حاصل ہونے والی معلومات: *اس  واقعہ سے  6  باتیں   معلوم ہوئیں :* 

( 1 ) امام  عبداللّٰہ  بن احمد نسفی   رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ   فرماتے ہیں   ’’ اس واقعہ میں   اہلِ ایمان کو صبر کرنے اور کفارِ مکہ کی ایذا رسانیوں   پر تَحَمُّل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ *(  مدارک، البروج، تحت الآیۃ:  ۷ ، ص ۱۳۳۶ )*   

( 2 ) اللّٰہ  تعالیٰ کے اولیاء کی کرامات برحق ہیں ۔  

( 3 )  ولایت عمل اور عمر پر مَوقوف نہیں   بلکہ چھوٹے بچوں  کو بھی ولایت مل جاتی ہے،حضرت مریم   رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی   عَنْہَا   مادر زاد وَلِیَّہ تھیں ۔ 

( 4 )  بزرگوں   کی صحبت کا فیض عبادات سے زیادہ ہے۔ 

( 5 )  جس دین میں   اولیاء موجود ہوں   وہ اس دین کی حقّانِیَّت کی دلیل ہے۔ 

( 6 ) اللّٰہ  والوں سے ان کی وفات کے بعد بھی ہدایت ملتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

سورہِ صافّات کی آخری 3 آیات جس میں تمام رسولوں پر سلام ہے اس کی فضیلت پر حضور ﷺ نے فرمایا جس نے ہر نماز کے بعد 3 بار پڑھ لئے اجر کا پیمانہ بھر لیا نماز کے بعد رسولوں پر سلام پڑھنا بدعت نہیں ہوتی :-

Hazrat Musa Ka Hajj Karna Aur Huzoor ﷺ Ka dekhna nabi ki intaqal ke baad ki zindagi

حضور ﷺ تو ہزاروں سال پہلے مرنے والے کو بھی دیکھتے ہیں ورنہ آیات میں دیکھنے کے بجائے جاننے کے الفاظ ہوتے